مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، پاکستان میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث پاکستان کے لیے آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمد ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں اس وقت فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم نومبر کی سپلائی کے انتظامات نسبتاً مشکل اور مہنگے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اپنی خام تیل اور پٹرولیم ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، خصوصاً سعودی عرب پاکستان کے اہم تیل سپلائرز میں شامل ہے۔ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث تیل کی ترسیل کے روایتی راستوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس سے پاکستان سمیت کئی درآمدی ممالک کے لیے مستقبل کی سپلائی کے انتظامات اہم ہو گئے ہیں۔

اہم بحری راستوں میں رکاوٹ

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے عالمی تیل کی نقل و حمل کو بھی متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مقابلے میں شدید کم ہوئی ہے، جبکہ بحیرہ احمر کے راستے بھی سکیورٹی خدشات موجود ہیں۔ اس صورتحال کے باعث خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں اور طریقہ کار پر توجہ دی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب بھی تیل کی برآمدات کو جاری رکھنے کے لیے متبادل انتظامات استعمال کر رہا ہے۔ عمان کے قریب جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے کا طریقہ بھی اختیار کیا جا رہا ہے، جس سے ترسیل کا عمل جاری رکھنے میں مدد مل رہی ہے، تاہم اس طریقہ کار کے باعث شپنگ اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے متبادل ذرائع پر غور

موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانی حکام خلیجی ممالک کے علاوہ خام تیل کی درآمد کے دیگر ممکنہ ذرائع کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عمان اور فجیرہ کے راستے سپلائی کے امکانات زیر غور ہیں، جبکہ لیبیا، امریکا، مغربی افریقہ اور قازقستان سمیت دیگر ممالک سے خام تیل حاصل کرنے کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

حکام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بڑے حجم کے خام تیل بردار بحری جہازوں کی پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی ہے۔ ملک کی بعض بندرگاہوں پر پانی کی گہرائی اتنی نہیں کہ انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز براہ راست لنگر انداز ہو سکیں، اس لیے متبادل انتظامات کے تحت جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

اس مقصد کے لیے عمان کے قریب صحار یا پاکستان میں حب کے ساحلی علاقے کے نزدیک جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے بڑے حجم کے جہازوں سے خام تیل چھوٹے یا موزوں جہازوں میں منتقل کرکے پاکستان تک پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

سنرجیکو کے پاس اضافی سہولت

پاکستان کی ریفائنریوں میں سنرجیکو کو اس حوالے سے ایک منفرد پوزیشن حاصل ہے کیونکہ اس کی سنگل پوائنٹ مورنگ سہولت نسبتاً بڑے سائز کے خام تیل بردار جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم موجودہ علاقائی حالات میں صرف بندرگاہی سہولیات کافی نہیں بلکہ خام تیل کی مسلسل اور محفوظ ترسیل بھی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔

اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کو فعال رکھا گیا ہے اور فوری طور پر ملک میں ایندھن کی قلت کا کوئی حتمی خدشہ نہیں ہے۔ وزارت پٹرولیم کے مطابق دستیاب ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے موجود ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *