کینیڈا: واٹرلو یونیورسٹی کے طلبا نے راکٹری میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
کینیڈا کی یونیورسٹی آف واٹرلو کی طلبا پر مشتمل راکٹری ٹیم نے خلائی تحقیق اور راکٹ سازی کے میدان میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ طلبا کی جانب سے تیار کردہ مائع دو ایندھن والا راکٹ ’پولارِس‘ 63 ہزار 497 فٹ کی بلندی تک پہنچ گیا، جس کے ساتھ ہی اس نے شوقیہ مائع راکٹ کی بلند ترین پرواز کا سابق عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔
یہ تاریخی لانچ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر ٹمنز میں منعقد ہونے والے 2026 لانچ کینیڈا چیلنج کے دوران کیا گیا۔ یونیورسٹی آف واٹرلو کے راکٹری طلبا نے کئی ماہ کی تیاری، تجربات اور انجینئرنگ کے بعد پولارِس کو کامیابی سے فضا میں بلند کیا۔ یونیورسٹی کے مطابق راکٹ نے 63 ہزار 497 فٹ کی بلندی حاصل کرکے سابق عالمی ریکارڈ 56 ہزار 590 فٹ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
پولارِس کی کامیاب پرواز کے بعد ٹیم کے ارکان نے نہ صرف عالمی ریکارڈ قائم ہونے کا جشن منایا بلکہ راکٹ کی بحفاظت واپسی بھی ممکن بنائی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق راکٹ پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر واپس آیا اور ٹیم نے اسے کامیابی سے بازیاب کرلیا۔
ٹیم کی مستقبل کی ٹیکنیکل لیڈ اور مکینیکل انجینئرنگ کی دوسرے سال کی طالبہ نیوا پٹیل نے لانچ کے تجربے کو انتہائی یادگار قرار دیا۔ ان کے مطابق راکٹ کی روانگی سے قبل کے لمحات ٹیم کے لیے شدید دباؤ کا باعث تھے، تاہم جب پولارِس نے کامیابی سے پرواز کی، عالمی ریکارڈ ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی اور پیراشوٹ کھلے تو ٹیم کے تمام ارکان نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔
پولارِس کی ساخت بھی اس منصوبے کی تکنیکی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ راکٹ تقریباً 17 فٹ لمبا ہے جبکہ مکمل ایندھن کے ساتھ اس کا وزن تقریباً 300 پاؤنڈ ہے۔ رواں سال ٹیم نے راکٹ کے پہلے سے موجود ڈیزائن میں متعدد اہم تبدیلیاں کیں تاکہ زیادہ بلندی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پرواز کے دوران اس کا استحکام بھی بہتر بنایا جاسکے۔
ٹیم کے مطابق پولارِس کے انجن کی طاقت میں اضافہ کیا گیا تاکہ پرواز کے ابتدائی مرحلے میں راکٹ کو بہتر استحکام مل سکے۔ اس کے علاوہ راکٹ کے مجموعی ڈھانچے اور مختلف نظاموں کو بھی بہتر بنایا گیا تاکہ زیادہ بلندی تک پہنچنے کے لیے مطلوبہ کارکردگی حاصل کی جاسکے۔
راکٹ کی واپسی کے نظام پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ٹیم نے ریکوری سسٹم کو مضبوط بنانے کے ساتھ اسے متوقع پیراشوٹ کھلنے کے دوران پیدا ہونے والی قوت سے تقریباً دس گنا زیادہ دباؤ برداشت کرنے کے قابل بنایا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد راکٹ کو بحفاظت زمین پر واپس لایا جاسکے۔
یونیورسٹی آف واٹرلو کی راکٹری ٹیم کے لیے یہ کامیابی ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے۔ ٹیم نے 2024 میں ’بورالِس‘ کے نام سے اپنا پہلا مائع دو ایندھن والا راکٹ تیار کیا تھا، جسے کینیڈا میں اپنی نوعیت کی پہلی کامیاب پرواز قرار دیا گیا۔ اس کے بعد 2025 میں ’آرورا‘ نے تقریباً 38 ہزار فٹ کی بلندی حاصل کی تھی۔
پولارِس کی حالیہ پرواز نے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف واٹرلو راکٹری ٹیم بلکہ طلبا کی انجینئرنگ اور راکٹ سازی کی صلاحیتوں کو بھی نمایاں کیا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق ٹیم میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبا شامل ہیں جو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ راکٹ ڈیزائن، انجن، الیکٹرانکس، ریکوری سسٹم اور دیگر تکنیکی شعبوں پر عملی کام کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف واٹرلو کی ٹیم کی یہ کامیابی کینیڈا میں طلبا کی سطح پر راکٹ سازی اور خلائی انجینئرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ پولارِس کی ریکارڈ ساز پرواز کے بعد ٹیم نے پرواز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ شروع کردیا ہے تاکہ مستقبل کے راکٹ منصوبوں میں مزید بہتری لائی جاسکے۔
