غزہ میں جاری طویل اسرائیلی بربریت نے ایک بار پھر انسانی تاریخ کے تمام سیاہ ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ گزشتہ روز اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والی چھ منزلہ عمارت کا گرنا اس جاری المیے کا ایک اور لرزہ خیز باب ہے، جس نے بیس سے زائد زندگیوں کو نگل لیا، پچیس سے زائد افراد کو زخمی کر دیا اور ایک سو کے قریب افراد اب بھی ملبے تلے لاپتہ ہیں۔ ان شہداء اور زخمیوں میں اکثریت معصوم بچوں اور بے بس خواتین کی ہے، جبکہ اس متاثرہ عمارت میں دس خاندان رہائش پذیر تھے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ غزہ کا چپہ چپہ ایسے ہی دل دہلا دینے والے مناظر کی گواہی دے رہا ہے۔​حالیہ المیے کے تناظر میں یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ غزہ میں تقریباً دو ہزار کے قریب ایسی عمارتیں اور رہائشی بلاکس موجود ہیں جو شدید بمباری کے باعث بری طرح متاثر اور گرنے کے قریب ہیں۔ خیموں اور محفوظ پناہ گاہوں کے فقدان کی وجہ سے مجبوراً ہزاروں بے گھر خاندان انہی مخدوش اور خستہ حال عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں موت ہر لمحہ ان کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے یا خطرناک عمارتوں کی مرمت کے لیے ہیوی مشینری تک کو غزہ میں داخل ہونے نہیں دیا جا رہا، جو قابض فورسز کی وحشیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو مکمل طور پر نیس و نابود کر دیا ہے اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب لوگوں کو عارضی جھونپڑیوں اور خیموں میں بھی سکون سے رہنے نہیں دیا جاتا۔ مسلسل بمباری اور زمینی محاصرے کے باوجود ظلم و ستم کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور ان تمام مظالم کے ساتھ غزہ کے محاصرے میں مزید سختی کرتے ہوئے خوراک، صاف پانی اور طبی امداد کی ترسیل کو بھی سختی سے روک دیا گیا ہے، جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر درجنوں زخمی مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ رہے ہیں۔
​یہ تمام تر مظالم، بھوک، پیاس، اور کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی گزارنے کے باوجود غزہ کے مظلوم عوام اپنے گھروں اور اپنی زمین سے ہجرت کرنے کے لیے ایک انچ بھی تیار نہیں ہیں۔ دوسری طرف، حماس کی جانب سے کئی مواقع پر جنگ بندی اور کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا گیا، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود سیز فائر کے باوجود اسرائیل اپنے مظالم سے باز نہیں آ رہا ہے اور ایک طرفہ طور پر غزہ کے مجبور مسلمان اس ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ایک طرف بدمست ہاتھی کی طرح بے لگام اسرائیل ہے جو کسی ضابطے یا قانون کو ماننے کو تیار نہیں، اور دوسری طرف غزہ کے نہتے عوام ہیں جو صبر و استقامت کا کوہِ گراں بنے کھڑے ہیں۔ اس تمام تر انسانی قتلِ عام پر اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اس سفاکیت پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں جو انسانیت کے منہ پر بھی ایک طمانچہ ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ کمزوروں کے حقوق کے تمام دعوے کاغذی اور منافقانہ ہیں۔
​فلسطینی مسلمانوں کی یہ مظلومیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلکہ اظہرمن الشمس ہے۔ دہائیوں سے جاری اس بربریت کی دنیا میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی، اور اس نازک ترین موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ اپنی گہری نیند سے بیدار ہو اور اسرائیلی بربریت کے آگے آہنی بند باندھے۔ مسلم ممالک زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اور سفارتی سطح پر ایسے اقدامات کریں جو قابض ریاست کو لگام ڈالنے پر مجبور کر دیں، اور او آئی سی اور عرب لیگ کے پلیٹ فارم سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو پرزور طریقے سے متحرک کیا جائے تاکہ غزہ کے نہتے عوام کی دادرسی کی جا سکے اور فوری طور پر مستقل جنگ بندی اور امداد کی مکمل رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، ورنہ اگر آج بھی امتِ مسلمہ نے اجتماعی غیرت کا مظاہرہ نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *