پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول کی قیمت 380 روپے فی لیٹر سے بڑھ گئی
اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کے دباؤ کے دوران عوام کے لیے ایک اور مشکل خبر سامنے آگئی، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے نئی قیمتوں کا تعین کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل مزید مہنگے ہوگئے ہیں۔
اوگرا کی جانب سے 15 ستمبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں، جن کا اطلاق رات 12 بجے سے آئندہ مدت کے لیے ہوگا۔ نئی قیمتوں کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 42 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
قیمت میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 380 روپے 24 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں پر سفر اور روزمرہ اخراجات کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پیٹرول کے مقابلے میں اس سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6 روپے 10 پیسے بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر عام شہریوں کے سفری اخراجات پر پڑنے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث سامان کی ترسیل اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی دباؤ آسکتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد شہریوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں اور مزید اضافے سے گھریلو بجٹ متاثر ہوگا۔ خصوصاً روزانہ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کے ذریعے سفر کرنے والے افراد کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے اوگرا عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں، ملکی کرنسی کی صورتحال اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتا ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کے اثرات بھی مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔
حکام کے مطابق عالمی منڈی میں فی بیرل خام تیل کی قیمت میں گزشتہ روز مزید اضافہ ہوا، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظرثانی کی گئی۔ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر نظرثانی مدت میں نئے سرے سے کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملکی معیشت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ ایندھن کے نرخ بڑھنے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ صنعت، زراعت، تجارت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد پیٹرول 380 روپے 24 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ عوام کی نظریں اب آئندہ قیمتوں کے جائزے پر ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل ہوتا ہے یا نہیں
