پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ٹیکس اور مارجنز کا بڑا حصہ، صارفین پر اضافی بوجھ

اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خام تیل کی لاگت کے ساتھ مختلف ٹیکسز، لیویز اور کاروباری مارجنز بھی شامل ہوتے ہیں، جس کے باعث صارفین کو فی لیٹر ایندھن کے لیے بڑی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

تازہ قیمتوں کے حساب سے 24 اگست 2026 تک پیٹرول 341.59 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 368.29 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔

ایک لیٹر پیٹرول پر کتنے اضافی اخراجات؟

دستیاب قیمتوں کے بریک ڈاؤن کے مطابق پیٹرول کی بنیادی لاگت اور صارف سے وصول کی جانے والی حتمی قیمت کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ مختلف حکومتی چارجز اور مارجنز اس فرق کا اہم حصہ ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کے ایک لیٹر پر ٹیکسز، لیویز اور مختلف مارجنز کی مجموعی رقم تقریباً 130.75 روپے بنتی ہے۔

اس رقم میں پٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، ان لینڈ فریٹ چارجز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجنز سمیت دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں۔

ڈیزل پر بھی 120 روپے سے زائد اضافی بوجھ

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی بنیادی لاگت کے علاوہ مختلف چارجز نمایاں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ڈیزل کی بنیادی لاگت 245.82 روپے فی لیٹر جبکہ اس کی ریٹیل قیمت 368.29 روپے ہے۔ یوں دونوں اعداد کے درمیان 122.47 روپے فی لیٹر کا فرق بنتا ہے، جس میں مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز شامل ہیں۔

ڈیزل کی قیمت میں پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، ان لینڈ فریٹ ایکویلائزیشن مارجن، ڈسٹری بیوٹر اور ڈیلر مارجن سمیت دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں۔

ڈیلرز کا مارجن بھی بڑھا دیا گیا

حکومت نے حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل کے ڈیلرز کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔

اس اضافے کے بعد ڈیلرز کا مارجن 8.64 روپے سے بڑھ کر 9.98 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈیلرز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی کے بعد سامنے آیا تھا۔

اس اضافے کا براہ راست اثر صارفین کی جانب سے ادا کی جانے والی فی لیٹر قیمت پر پڑتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر مارجن میں یہ اضافہ نہ کیا جاتا تو حالیہ قیمتوں میں صارفین کو 1.34 روپے فی لیٹر تک ریلیف مل سکتا تھا۔

پیٹرول کی قیمت میں کون کون سے چارجز شامل ہیں؟

حالیہ قیمتوں کے بریک ڈاؤن کے مطابق پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور دیگر چارجز عائد ہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7.87 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔

اس کے علاوہ ڈیلرز کو بھی فی لیٹر مقررہ مارجن دیا جاتا ہے، جو حالیہ اضافے کے بعد 9.98 روپے ہوگیا ہے۔

عوام پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافی چارجز کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، مال برداری، زراعت اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے روزانہ نظرثانی کا نظام بھی نافذ کیا ہے، جس کے تحت عالمی قیمتوں اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے نرخ تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *