پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے لائسنسنگ نظام نافذ، 10 کیٹیگریز متعارف
اسلام آباد: پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کو منظم کرنے اور ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کو قانونی دائرہ کار میں لانے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات سے متعلق باقاعدہ لائسنسنگ اور ریگولیٹری نظام متعارف کرا دیا ہے۔
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی نے لائسنسنگ سے متعلق نئے ضوابط جاری کرتے ہوئے درخواستوں کے لیے آن لائن پورٹل بھی فعال کردیا ہے۔ ملک میں پہلے سے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے آپریٹرز 5 ستمبر تک لائسنس کے لیے درخواستیں جمع کراسکیں گے۔
نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ورچوئل اثاثہ جات کے کاروبار اور خدمات کے لیے 10 مختلف لائسنس کیٹیگریز مقرر کی گئی ہیں۔ ان میں ایکسچینج، بروکر ڈیلر، ایڈوائزری، قرض دینے اور قرض حاصل کرنے سے متعلق خدمات، مائننگ سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔
وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق نئے نظام کا مقصد ورچوئل اثاثہ جات رکھنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے مفادات اور اثاثوں کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائسنس یافتہ سروس فراہم کرنے والوں کو قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ انہیں بینکاری نظام سے منسلک ہونے کی راہ بھی ہموار کی جائے گی۔
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ قانونی فریم ورک کے نفاذ سے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے بھی پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق متعلقہ قانون کی منظوری کے بعد مختصر مدت میں ریگولیٹر کے قیام اور مکمل لائسنسنگ فریم ورک کی تشکیل ایک اہم پیش رفت ہے۔
نئے نظام کے ذریعے حکومت کا مقصد ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں شفافیت، قانونی نگرانی اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید وسعت دینا ہے۔
