اگست کا مہینہ ہمیشہ سے پاکستانی قوم کے لیے تجدیدِ عہد، حوصلے اور جشن کاماہ رہا ہے۔ جب فضا میں خوشیوں کے ترانے گونجتے ہیں اور گلی محلوں سے لے کر بلند و بالا عمارتوں تک ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آتی ہے، تو یہ منظر ہر ایک پاکستانی کے دل کو گرمادیتے ہیں۔ اس سال 14 اگست کو جب ہم اپنے وطن عزیز کا 79 واں یومِ آزادی جوش و خروش سے منا رہے ہیں، تو یہ موقع اس طویل، صبر آزما اور قربانیوں سے بھرپور تاریخی جدوجہد کا احاطہ کرنے کا وقت ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ریاست کے حصول کے لیے دی تھی۔
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی ایک ایسا باب ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ جنگ کسی جاگیر، زبان، یا مخصوص علاقے کے حصول کے لیے نہیں لڑی گئی تھی، بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا خطہ زمین حاصل کرنا تھا جہاں مسلمان اپنے دین کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔ کلمے کے نام پر حاصل کی جانے والی آزادی دنیا کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ “پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ” کا نعرہ کروڑوں مسلمانوں کے دل کی آواز تھی، جس نے ایک انتشار کا شکار قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ 79 سال کا یہ طویل سفر اس بات کا گواہ ہے کہ نظریاتی بنیادوں پر بننے والی یہ ریاست تمام تر اندرونی و بیرونی سازشوں کے باوجود قائم و دائم ہے اور انشاء اللہ تاقیامت قائم رہے گی۔
کسی بھی مہذب اور مستحکم ریاست کا دارومدار اس کے آئین اور قانون کی بالادستی پر ہوتا ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی اور سیاسی تاریخ میں 1973 کا متفقہ آئین ایک روشن ستارہ اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیاسی اختلافِ رائے کے باوجود، تمام مکاتبِ فکر اور سیاسی قائدین کا اس دستور پر متفق ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ جب بات پاکستان کے مفاد کی ہو، تو پوری قوم ایک پیج پر آ جاتی ہے۔ اس آئین کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے ملک میں اسلام کی بالادستی کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ آئین کے تحت اس بات کو لازمی قرار دیا گیا کہ اس خطے میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے احکامات کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، جو اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستان کا نظریہ ہمیشہ محفوظ ہاتھوں میں رہے گا۔اس کےساتھ ساتھ
آج کے پرآشوب دور میں کسی بھی ملک کی بقا اور سلامتی کا انحصار اس کی دفاعی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ الحمدللہ، پاک فوج اور دیگر دفاعی اداروں نے انتہائی کٹھن حالات اور محدود وسائل کے باوجود دفاعی شعبے میں حیرت انگیز اور انقلابی ترقی کی ہے۔ جدید عسکری ٹیکنالوجی، میزائل پروگرام، سائبر ڈیفنس اور پیشہ ورانہ مہارت کے لحاظ سے ہماری مسلح افواج دنیا کی صفِ اول کی افواج میں شامل ہیں۔ دشمن کی ہر جارحانہ چال اور مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے ہمارا دفاعی نظام فولادی دیوار کی مانند ہے یہ سب ہماری بہادر افواج کی شبانہ روز محنت اور قربانیوں کا ثمر ہے۔
یومِ آزادی کے اس مبارک موقع پر وطنِ عزیز کو ایک اور انتہائی شاندار اور تاریخی خوشخبری ملی ہے، جس نے عالمِ اسلام کے افق پر امید کے نئے دیے جلا دئیے ہیں۔ آزادی سے صرف چند دن قبل سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی سیاسی صورتحال میں ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اب بین الاقوامی سطح پر تنہا نہیں ہے، بلکہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اس کا رشتہ اور دفاعی اشتراک ایک نئی بلندی کو چھو رہا ہے۔
اس نئے اسلامی بلاک کی طرف خوشخبری نہ صرف پاکستان کی عسکری اور سفارتی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بلکہ اس سے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد، معاشی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
کسی بھی قوم کی تقدیر بدلنے میں اس کے مخلص اور جرأت مند رہنماؤں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہےفیلڈمارشل جنرل سید عاصم منیر کے بحیثیت سپہ سالارِ پاکستان ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے ملک کی شان، عزت اور بین الاقوامی اہمیت میں جس طرح اضافہ ہوا ہے، وہ ایک روشن حقیقت ہے۔ ان کی مدبرانہ اور اصول پرست قیادت نے ملک کے اندرونی امن کو مستحکم کرنے اور بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔جنرل عاصم منیر کی پروفیشنل بصیرت، عزمِ صمیم اور ملکی مفاد پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی نے پاک فوج اور عوام کے رشتے کو مزید گہرا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری ڈپلومیسی کو جو فروغ ملا ہے، اسی کے نتیجے میں آج عالمی برادری میں پاکستان کا وقار اور اثر و رسوخ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
79 ویں یومِ آزادی کا یہ پرمسرت موقع ہمیں اس عزم کی تجدید کی دعوت دیتا ہے کہ ہم ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کریں۔ ہمارا سبز ہلالی پرچم اس بات کی علامت ہے کہ یہ قوم مشکلات کے طوفانوں سے ٹکرانا جانتی ہے۔ آئیے اس مبارک دن پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی مادرِ وطن کو ایک حقیقی فلاحی، معاشی طور پر مستحکم اور اسلامی اصولوں کا گہوارہ بنائیں گے جہاں عدل، انصاف اور امن کی بہار ہمیشہ کے لیے قائم و دائم رہے۔
پاکستان زندہ باد! پاک فوج پائندہ باد
