عراق اپنی سرزمین اور فضائی حدود ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، وزیراعظم علی الزیدی
بغداد: عراقی وزیراعظم علی فالح کاظم الزیدی نے واضح کیا ہے کہ عراق اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی بھی ہمسایہ یا علاقائی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ عراقی حکومت نے اس مؤقف کو ملکی خودمختاری، قومی سلامتی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
عراقی وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور خطے کے مختلف ممالک کو اپنی سرزمین اور فضائی حدود کے ممکنہ فوجی استعمال کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ بغداد کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عراق کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہتا جس کے نتیجے میں کسی دوسرے ملک کے خلاف اس کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال ہوں۔
عراق کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر زور
وزیراعظم علی الزیدی نے عراقی سیکیورٹی اور دفاعی حکام سے ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ریاست کی خودمختاری کا تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی جو خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بنے۔
عراقی حکومت پہلے بھی اس مؤقف کا اظہار کر چکی ہے کہ اس کی سرزمین کسی برادر یا دوست ملک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ مئی 2026 میں عراقی قومی سلامتی سے متعلق اجلاس میں بھی حکومت نے عرب اور علاقائی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے عراقی علاقے اور فضائی حدود کے استعمال کی مخالفت کی تھی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عراق ایک ایسے ملک کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے جو علاقائی تنازعات میں کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے امن، استحکام اور سفارتی روابط کو فروغ دے۔
فضائی حدود کی نگرانی مزید سخت کرنے پر توجہ
موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں عراق کے لیے اپنی فضائی حدود کی نگرانی خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ بغداد کو خدشہ ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران کسی بھی غیر مجاز فضائی یا فوجی سرگرمی کے اثرات براہ راست عراق کی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے عراقی حکومت فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور ملک کی فضائی حدود کی مؤثر حفاظت کے لیے اقدامات پر توجہ دے رہی ہے۔ حکام کے مطابق جدید دفاعی نظام اور بہتر نگرانی کا مقصد کسی بھی غیر مجاز سرگرمی کی بروقت نشاندہی کرنا اور ملک کی خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے۔
سعودی عرب سے متعلق واقعات کے بعد بغداد کا مؤقف
عراق کا تازہ مؤقف ایسے واقعات کے پس منظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے جن میں عراقی سرزمین سے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے خلاف ممکنہ ڈرون حملوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔ جولائی 2026 میں عراقی وزیراعظم نے سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ایسے حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ عراقی حکومت نے اس موقع پر بھی کہا تھا کہ وہ کسی بھی برادر یا دوست ملک کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گی۔
بغداد نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات میں کسی فرد یا گروہ کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراقی حکومت نہ صرف بیرونی فوجی کارروائیوں سے اپنی سرزمین کو دور رکھنا چاہتی ہے بلکہ ملک کے اندر سے ہونے والی کسی ممکنہ کارروائی کو بھی روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عراق خطے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں
عراق جغرافیائی اعتبار سے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کی سرحدیں ایران، ترکی، شام، اردن، سعودی عرب اور کویت سے ملتی ہیں، جبکہ خلیجی خطہ بھی اس کے قریب واقع ہے۔ اس جغرافیائی صورتحال کے باعث خطے میں ہونے والی کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی کے اثرات عراق تک پہنچ سکتے ہیں۔
بغداد ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی اقتصادی اور سیکیورٹی روابط رکھتا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب، ترکی، امریکا اور دیگر علاقائی و عالمی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جولائی 2026 میں وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا سرکاری دورہ کیا، جہاں دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی اور مشترکہ مفادات سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔
اسی طرح عراقی وزیراعظم نے ترکی کے ساتھ تعلقات کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے اقتصادی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
بغداد کا پیغام: عراق کسی جنگ کا میدان نہیں بنے گا
عراقی حکومت کے حالیہ بیانات کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ عراق کسی بھی علاقائی یا بین الاقوامی تنازع میں اپنی سرزمین کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے گا۔ حکومت کے نزدیک ملکی خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ عراقی سرزمین، فضائی حدود اور قومی وسائل کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہ ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عراق کے لیے یہ پالیسی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کسی بھی فریق کی جانب سے عراقی سرزمین یا فضائی حدود کا استعمال بغداد کو براہ راست تنازع کا حصہ بنا سکتا ہے۔ ایسی صورتحال نہ صرف عراق کی داخلی سلامتی بلکہ اس کے علاقائی اور سفارتی تعلقات کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
علاقائی کشیدگی میں عراق کا محتاط کردار
وزیراعظم علی الزیدی کی حکومت ایک ایسے وقت میں ملکی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھا رہی ہے جب عراق کو مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ بغداد کی کوشش ہے کہ وہ اپنے تمام اہم پڑوسیوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے جو عراق کو علاقائی محاذ آرائی کا مرکز بنا دے۔
عراقی حکومت کے مطابق ملک کی ترجیح امن، استحکام، خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ اسی پالیسی کے تحت بغداد نے واضح کر دیا ہے کہ عراق کی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی بھی ہمسایہ یا علاقائی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
موجودہ حالات میں عراقی وزیراعظم کا یہ مؤقف بغداد کی جانب سے ایک واضح سفارتی پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے کہ عراق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود اپنی سرزمین کو محفوظ رکھنا اور تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
