اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں قائم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا گزشتہ تین سال کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، غیر قانونی سرگرمی یا اختیارات کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز، ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ اور متعلقہ نظام میں بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو موجودہ انتظامات، نگرانی کے طریقہ کار اور بانڈڈ تجارت سے متعلق مختلف امور پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر کے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا گزشتہ تین سال کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد ان مراکز میں موجود ریکارڈ، درآمدی سامان، مالی معاملات اور دیگر متعلقہ امور کی شفاف جانچ پڑتال کرنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی یا غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی کی جا سکے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آڈٹ کا عمل مکمل طور پر شفاف اور غیر جانب دار انداز میں انجام دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں کسی بھی قسم کی بے قاعدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی اہلکار یا متعلقہ فرد کے خلاف غیر قانونی سرگرمی یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں فزیکل اسٹاک کی بھی جانچ ہوگی

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں موجود کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کی فزیکل اسٹاک ویریفکیشن بھی کرائی جائے گی۔ اس عمل کے تحت ویئر ہاؤسز میں موجود سامان اور سرکاری ریکارڈ کا باقاعدہ موازنہ کیا جائے گا تاکہ ریکارڈ اور اصل اسٹاک میں کسی بھی فرق کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔

حکام کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز ویئر ہاؤسز میں پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق کارگو کی نگرانی وی-باک (WeBOC) سسٹم کے ساتھ منسلک ہے۔ اس نظام کے ذریعے درآمدی اور کسٹمز سے متعلق مختلف کارروائیوں کی نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کا طریقہ کار موجود ہے۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بانڈڈ تجارت ملکی مجموعی درآمدات کا تقریباً 16.5 فیصد حصہ بنتی ہے، جس کے باعث اس شعبے کی نگرانی اور نظام میں شفافیت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ حکام کے مطابق بانڈڈ ویئر ہاؤسز سے متعلق نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نگرانی کے موجودہ طریقہ کار کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

لائسنسنگ اور سیکیورٹی نظام کا جائزہ

اجلاس میں کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کی لائسنسنگ اور سیکیورٹی سے متعلق اقدامات پر بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ویئر ہاؤسز کے لائسنسنگ نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی انتظامات کو بھی مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں موجود سامان کی ویلیوایشن ٹیسٹنگ بھی کرائی جائے گی۔ اس عمل کا مقصد سامان کی مالیت سے متعلق ریکارڈ کی جانچ اور نظام میں موجود ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

اس کے علاوہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں استعمال ہونے والے انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹمز کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ موجودہ ڈیجیٹل نظام کس حد تک مؤثر ہے اور نگرانی، ریکارڈنگ اور معلومات کے تبادلے کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

بے ضابطگیوں کے خاتمے کیلئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں موجود بے ضابطگیوں کے خاتمے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں شفافیت بڑھانے، نگرانی بہتر بنانے اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کسٹمز کے نظام میں اصلاحات اور نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی محصولات اور درآمدی تجارت سے متعلق نظام میں کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر قانونی سرگرمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی سطح پر قواعد کی خلاف ورزی یا غیر قانونی سرگرمی میں سرکاری اہلکار ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آڈٹ، فزیکل اسٹاک ویریفکیشن اور دیگر جانچ کے عمل کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کیا جائے۔

اہم وفاقی وزرا اور حکام اجلاس میں شریک

کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز سے متعلق اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ وزیر پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

حکومت کی جانب سے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے تین سالہ آزادانہ آڈٹ، فزیکل اسٹاک کی جانچ، ویلیوایشن ٹیسٹنگ اور آئی ٹی سسٹمز کے جائزے کو شفافیت اور نگرانی بہتر بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور ملکی محصولات سے متعلق معاملات میں مزید بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *