خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دو بڑی کارروائیاں، 10 دہشت گرد ہلاک، سرچ آپریشن جاری
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے دو الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں دہشت گردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت سے متعلق مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کا مقصد علاقے میں صورتحال کو یقینی بنانا اور دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کا خاتمہ تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں کی گئی، جہاں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ فورسز نے بروقت اور منظم حکمت عملی کے تحت حملے کا مؤثر جواب دیا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کارروائی کے دوران آٹھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کا حملہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔
فوج کے مطابق علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہاں کوئی اور مسلح عنصر موجود نہ ہو۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے آپریشنز کا مقصد صرف حملوں کو ناکام بنانا نہیں بلکہ مستقبل میں دہشت گردی کے خطرات کو بھی کم کرنا ہے۔
دوسری کارروائی ضلع دیر میں کی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس طرح دونوں کارروائیوں میں مجموعی طور پر 10 دہشت گرد مارے گئے۔ حکام کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے انتہائی احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کی تاکہ علاقے میں موجود شہری آبادی محفوظ رہے اور دہشت گردوں کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر عسکری سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ عناصر مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے اور سیکیورٹی فورسز کو مطلوب تھے۔ برآمد ہونے والے سامان کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دیگر روابط کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان اور دیر سمیت بعض حساس علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان اور عزمِ استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ریاستی ادارے مربوط انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے دیتے رہیں گے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سیکیورٹی فورسز انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے آپریشنز نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرتے ہیں بلکہ حساس علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے جنوبی وزیرستان اور ضلع دیر میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دینے والے اہلکار پوری قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دونوں کارروائیوں کو سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فورسز کی قربانیاں قابلِ قدر ہیں اور حکومت اس قومی مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ وزیراعظم کے مطابق ملک میں امن و استحکام کا قیام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس، نگرانی اور بروقت آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان بہتر تعاون اور مسلسل آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے بھی یہ اقدامات اہم سمجھے جاتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ آپریشنز کے مکمل ہونے کے بعد بھی علاقے کی نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی نئی سرگرمی کا بروقت پتا چلایا جا سکے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایسے آپریشنز آئندہ بھی ضرورت کے مطابق جاری رکھے جائیں گے۔
