آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے قافلے پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ان کے سیکیورٹی اسکواڈ کا ایک گارڈ جان کی بازی ہار گیا جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ حملے کے وقت قافلہ ٹائیں ڈھلکوٹ کے علاقے سے گزر رہا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران قافلے میں شامل کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ زخمی ہونے والوں میں سابق معاونِ خصوصی سردار امتیاز شاہین بھی شامل بتائے جا رہے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی بھی کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات اور حملہ آوروں کی شناخت جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
سردار تنویر الیاس حملے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے قافلے کو شدید نقصان پہنچا۔ حال ہی میں انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد یہ ان کا اہم عوامی دورہ تصور کیا جا رہا تھا۔
پولیس اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے محرکات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
