ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈی کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 80 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث سامنے آیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق ایسی صورت حال میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو خام تیل اور قدرتی گیس فراہم کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں، ایندھن کے اخراجات اور بین الاقوامی معیشت پر فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔
