• مئی 23, 2022

یاماہا موٹر سائیکل کی قیمتوں میں 12ہزار روپے تک اضافہ

یاماہا موٹر پاکستان نے موٹر سائیکل کی قیمتوں میں 12 ہزار روپے تک اضافہ کر دیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق 11 فروری سے کر دیا گیا۔

یاماہا وائے بی آر 125 کی قیمت میں سب سے زیادہ 12 ہزار روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس کی قیمت دو لاکھ 23 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

وائے بی 125 ذی اور وائے بی 125 ذی ڈی ایکس کی قیمتوں میں 11 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ مختلف قسمیں اب دو لاکھ 1 ہزار روپے اور دو لاکھ 16 ہزار 500 روپے میں فروخت ہوں گی۔

انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ابھی تک وائے بی 125 جی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا ہے کیونکہ وہ اگلے ہفتے اپنا نیا ماڈل لانچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاہم اس کے بعد وہ اس ویرینٹ کی قیمت میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے چیئرپرسن محمد صابر شیخ نے کہا کہ ہونڈا اور سوزوکی ممکنہ طور پر یاماہا کے بعد قیمتوں میں اضافہ کریں گی۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ہونڈا اور سوزوکی کی قیمتوں میں 5 ہزار روپے تک اضافے کا امکان ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیاں اپریل میں قیمتوں میں 5 ہزار روپے کا اضافہ کر سکتی ہیں۔

قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟

صابر شیخ نے کہا کہ توانائی کی زیادہ لاگت، لیبر چارجز اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بڑھنا قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا۔ اس کے علاوہ فریٹ چارجز یا شپمنٹ کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی 50 فیصد پرزہ جات چین، تھائی لینڈ اور جاپان سے درآمد کرتی ہے اور صنعتوں کی بندش کی وجہ سے کمپنی کو اسپیئر پارٹس کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ خاص طور پر چین کو طویل عرصے سے کنٹینرز کی قلت کا سامنا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی وجہ سے کنٹینرز درآمدی ممالک میں پھنس گئے ہیں۔

یکم دسمبر 2021 کو یاماہا نے موٹر سائیکل کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور یاماہا وائے بی 125 ذی ڈی ایکس اور وائے بی آر 125 کی قیمتوں میں سب سے زیادہ 7 ہزار روپے کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

صابر شیخ نے توقع ظاہر کی کہ قیمتوں میں اضافے سے کمپنی کی فروخت میں کمی نہیں آئے گی کیونکہ یاماہا، ہونڈا اور سوزوکی بڑی کمپنیاں ہیں۔ تاہم چھوٹی کمپنیاں اگر قیمتوں میں اضافہ کرتی ہیں تو انکی فروخت میں کمی آسکتی ہے۔

آٹو تجزیہ کار غنی نے کہا کہ اگر لوگ قیمت پر معیار کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ یاماہا موٹر سائیکلیں خریدنا جاری رکھیں گے۔ تاہم مڈل کلاس طبقہ چینی مینو فیکچررز کی طرف جا سکتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کی قوتِ استطاعت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

خیبرپختونخوا:13 اضلاع میں ضمنی انتخاب کل ہونگے

Read Next

اسلام آباد:ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ،سب انسپکٹرلیاقت علی شہید

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے