• نومبر 24, 2020

گلگت بلتستان کا میدان تحریک انصاف نے مارلیا

 

گلگت: گلگت بلتستان کا میدان تحریک انصاف نے مار لیا، نو نشستوں پر فاتح، سات حلقوں میں آزاد امیدوار جیت گئے،پیپلز پارٹی چار اور ایم ڈبلیو ایم ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب، الیکشن امتحان میں ن لیگ کے صرف دو امیدوار پاس قرار پائے۔

گلگت بلتستان الیکشن کے 23 حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں جس میں پاکستان تحریک انصاف 9، آزاد امیدوار 7 نشستوں پر کامیاب رہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 4، ایم ڈبلیو ایم 1 اور مسلم لیگ ن 2 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔

گلگت بلتستان الیکشن 2020ء کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج

جی بی 1، گلگت 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی  کےامیدوارامجد حسین 11 ہزار178ووٹ لےکرکامیاب جبکہ آزاد امیدوار مولانا سلطان رئیس 2051 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر  رہے۔

جی بی 2، گلگت 2 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے جمیل احمد 8 ہزار817 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار فتح اللہ 6 ہزار607 ووٹ لے کردوسرے نمبرپر  رہے۔

جی بی 4، نگر 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے امجد حسین 4 ہزار716 ووٹ لے کرکامیاب اسلامی تحریک پاکستان (آئی ٹی پی) کے امیدوار محمد ایوب 4 ہزار 291 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 5، نگر 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار جاوید علی منوا 2570 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار حاجی رضوان علی 1850 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 6، ہنزہ کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے عبیداللہ بیگ 5 ہزار 622 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ آزاد امیدوار نور محمد 4 ہزار 584 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 7، سکردو 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار راجہ زکریا مقپون 5290 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ 4114 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 8، سکردو 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلد وحدت المسلمین کے امیدوار محمد کاظم 7534 ووٹ لے کر کامیاب قرار ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے محمد علی شاہ کو 7146 ووٹ ملے۔

جی بی 9، سکردو تھری کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6865 ووٹ کے کر کامیاب قرار پائے جبکہ فدا محمد ناشاد 5236 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 10، سکردو 4 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار راجہ ناصر علی 5124 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار وزیر حسن 3684 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 11، کھرمنگ کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سید امجد علی 5872 ووٹ لے کر جیت گئے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار سید محسن رضوی صرف 1396 ووٹ لے سکے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 12، شگر کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اس حلقے سے بھی میدان مار لیا ہے۔ پی ٹی آئی امیدوار راجہ اعظم خان 9322 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار عمران ندیم کو 7663 ووٹ ملے اور وہ دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 13، استور 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے خالد خورشید 4 ہزار 836 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ پیپلز پارٹی کے عبدالحمید 3 ہزار 117 ووٹ لے سکے۔

جی بی 14 استور 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے شمس الحق 5 ہزار 354 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ پیپلزپارٹی کے مظفر علی خان نے 3 ہزار 479 ووٹ لیے۔

جی بی 15، دیامر 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار حاجی شاہ بیگ 2 ہزار 713 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ آزاد امیدوار محمد دلپذیر2 ہزار309 ووٹ لے کردوسرے نمبر پررہے۔

جی بی ایل اے 16 دیامر ٹو کے مکمل پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار انجینئر محمد انور 4 ہزار 813 ووٹ لے کر کامیاب قرار ہائے جبکہ آزاد امیدوار عطا اللہ 4 ہزار 314 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 17، دیامر 3 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار حیدرخان 5 ہزار 389 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے رحمت خالق 5 ہزار162ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے۔

جی بی 18، دیامر 4 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حاجی گلبر خان 6793 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار ملک کفایت الرحمان 5986 ووٹ حاصل کر سکے۔

جی بی 19، غذر 1 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار وزیر نواز خان ناجی 6 ہزار 208 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سید جلال علی 4 ہزار 967 ووٹ لیکر دوسرے نمبرپر رہے۔

جی بی 20، غذر 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے نذیراحمد 5 ہزار 582 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ ق لیگ کے خان اکبرخان 3 ہزار 815 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 21، غذر 3 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 4 ہزار 334 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ  پیپلزپارٹی کے ایوب شاہ 3 ہزار 430 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 22، گھانچے 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار مشتاق حسین نے اس حلقے میں میدان مار لیا ہے۔ انہوں نے 6051 ووٹ حاصل کرکے پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست دی۔ تحریک انصاف کے امیدوار ابراہیم ثنائی نے 4945 ووٹ حاصل کئے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 23، گھانچے 2 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار حاجی عبدالحمید 3 ہزار 666 ووٹ لے کرکامیاب جبکہ تحریک انصاف کی آمنہ انصاری نے 3 ہزار296 ووٹ لیے

جی بی 24 گھانچے 3 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق اس حلقے سے پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا ہے۔ پی پی کے امیدوار محمد اسماعیل نے 6206 ووٹ لے کر جیت اپنے نام کی۔ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار سید شمس الدین کے حصے میں 5361 ووٹ آئے۔

الیکشن کا عمل بغیر کسی وقفے کے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ گلگت حلقہ 3 میں تحریک انصاف کے صدر جعفر شاہ کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 نومبر کو ہونگے۔

پولنگ سٹیشن کے 100 میٹر حدود کے اندر پوسٹرز اور بینرز لگانے اور چار سو میٹر کے اندر انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی عائد تھی۔ انتخابات کو صاف، شفاف، غیر جانبدار اور پرامن بنانے کیلئے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت نے تمام تر انتظامات مکمل کئے تھے۔

اس سلسلے میں 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے پولنگ سٹیشنز پر خدمات سرانجام دیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے خصوصی دستوں نے بھی یہاں خدمات سر انجام دیں۔

انتخابات کیلئے ایک ہزار ایک سو ساٹھ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے 311 کو حساس اور 428 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور مقامی پولیس کے دس ہزار اہلکارڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پیراملٹری فورسز نے بھی فرائض انجام دیے۔

سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی، پی پی اور نواز لیگ نے جلسے، ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں خوب جان ماری۔ امیدواروں نے کامیابی کے دعوے بھی کئے۔

کورونا صورتحال کے پیش نظر تمام پولنگ سٹاف، سکیورٹی اہلکاروں اور ووٹرز کو ماسک بھی مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ عملے کو حفاظتی سامان کے آٹھ ہزار بیگ تقسیم کئے گئے تھے۔ حفاظتی سامان میں ماسک، گلوز، ہیڈ سینی ٹائزر، معلوماتی پوسٹر اور پلاسٹک فیس کور شامل تھے۔ پولنگ سٹیشنوں کے اندر ووٹرز ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے پر رکھا گیا۔

کچھ مقامات پر پولنگ کے عمل میں سست روی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ انتخابی عمل اور سیکیورٹی کا جائزہ لینے کیلئے چیف الیکشن کمشنر نے مرکزی کنٹرول روم اور پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا۔

چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے انتخابی عمل اور سیکورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ذمہ داری کیساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل خان کا کہنا ہے کہ عوام میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے شعور اجاگر ہوا۔ مثالی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

حکمرانوں کو گلگت بلتستان کا رزلٹ ہضم نہیں کرنے دیں گے،مولانا فضل الرحمان

Read Next

جرمنی میں لاک ڈاؤن کیخلاف شہریوں کا احتجاج، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد زخمی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے