• اپریل 11, 2021

کیا کرونا وائرس کی نئی قسم ویکسینز کو بیکار کرسکتی ہے؟

برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم  سامنے آنے کے بعد جہاں ایک طرف دنیا نئے سرے سے خوف میں مبتلا ہوگئی ہے، وہیں اب تک کی تیار کی گئی ویکسینز پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا کہ آیا یہ ویکسینز نئی قسم کے خلاف مؤثر ثابت ہوں گی؟ تاہم ماہرین نے سائنسی تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم زیادہ تشویشناک نہیں۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے منسلک جریدے میں شائع ایک مضمون کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک یہ ثابت نہیں ہوا کی وائرس کی یہ نئی قسم دوسری اقسام کے مقابلے میں زيادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ علاوہ ازیں ویکسینز پر کام کرنے والی کمپنیوں یعنی ماڈرنا، فائزر، بائیو این ٹیک اور ری جینرون کا کہنا ہے کہ ان کی تیار کردہ ویکسین نئی قسم کے خلاف بھی فائد مند ثابت ہوگی۔ کرونا وائرس کی یہ نئی قسم برطانوی جین سیکوئینسنگ لیبارٹریز میں دریافت ہوئی تھی اور اسے لندن اور جنوب مشرقی انگلینڈ میں کیسز کی اچانک اضافے کی وجہ بتایا جانے لگا۔ برطانوی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ نئی قسم 70 فیصد زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے تاہم اب مختلف ممالک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی اقسام کے حوالے سے بے بنیاد خوف اور خدشات پھیلائے جارہے ہیں۔ ڈی کوڈ جینیٹکس کے سربراہ  کاری سٹیفانسن کا کہنا ہے کہ ہمیں وائرس کی اس نئی قسم سے پریشان ہونے کی ضرورت نہيں ہے اور نہ ہی برطانیہ اور دوسرے ممالک سے آنے والے مسافروں پر پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس کے متعلق افواہیں اس لیے پھیلائی جارہی ہيں تاکہ لوگوں کو احتیاطی تدابیر کی تعمیل اور سماجی دوری جاری رکھنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

کورونا کس طرح دماغ کو متاثر کرتا ہے؟ چونکا دینے والے انکشافات

Read Next

پی سی بی 2020ء ایوارڈز کا اعلان، بابر اعظم، محمد رضوان، فواد عالم، نسیم شاہ بازی لے گئے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے