• نومبر 25, 2020

کورونا وائرس: چین میں موجود پاکستانی شہریوں کو وطن واپس نہیں لانا، فیصلے پر قائم ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا

پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے چین میں موجود پاکستانیوں کو واپس وطن نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

سنیچر کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا جارہا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے والے طلبہ کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین میں موجود چار پاکستانی طلبا میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بارے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘وہ چار پاکستانی طلبا جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اب ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اس کی وجہ یہ ان کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہونا ہے۔’

خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے حکومتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا اور حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈاکٹر ظفرمرزا کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی تجاویز اور چینی حکومت کی جانب سے اس وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ووہان نے واپس نہیں بلا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستانی طلبا کے لیے وہ سب کر رہا ہے جو کرنا چائیے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ’یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کو کیوں نہیں نکالا جارہا ہے، جس پر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صرف سات آٹھ ممالک نے اپنے لوگوں کا انخلا کیا یا اس کی درخواست دی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ووہان کے شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

’لہٰذا ہم اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ پاکستانیوں کی بہتر دیکھ بھال ہو رہی ہے اور وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اس لیے اب بھی پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ان کی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہمارا یہی فیصلہ ہے کہ ہم اپنے شہریوں کو نہیں نکالیں گے۔ چین کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ ہوا ہے جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ترجیح اول ہے۔’

ملک میں کورونا وائرس کی تشخیص اور ممکنہ عدم پھیلاؤ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ ‘آج شام تک کورونا وائرس کی تشخیصی میڈیکل کٹس پاکستان پہنچ جائیں گی جس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو ہم خود وائرس کی تشخیص کرسکیں گے۔’

انھوں نے بتایا اس ضمن میں اسلام آباد کے قومی ادراہ صحت، پنجاب کے شہر لاہور کی شوکت خانم ہسپتال اور سندھ میں کراچی کے آغا خان ہسپتال میں مراکز قائم کیے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں کچھ افراد کو کورونا وائرس کے شبہ میں نگرانی میں رکھا گیا تھا تاہم ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

فٹبال چیمپئن شپ: ڈربی کاؤنٹی نے سٹوک سٹی کو 0-4 سے ہرا دیا

Read Next

علامہ ناصر مدنی کے عمران خان کو مفید مشورے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے