• اکتوبر 25, 2020

کورونا سے سب سے زیادہ متاثر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہوئے: ہیومن رائٹس کمیشن

کورونا وائرس کی وبا سے معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہوئے جب کہ اس وبا کا سب سے زیادہ منفی اثر طلبہ اور صحت کے شعبے سے منسلک افراد پر ہوگا۔

اس بات کا انکشاف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سروے میں ہوا جس میں ملک کے 70 اضلاع سے 400 سے زائد افراد نے حصہ لیا۔

سروے میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوں پر اس کے منفی اثرات پر 94 فیصد نے روزگار کے چھن جانے کو سب سے اہم اثر کہا اور  49 فیصد نےتنخواہوں میں عارضی کٹوتی، 47 فیصد نے حفاظتی سامان کی عدم دستیابی جب کہ 32 فیصد نے تنخواہ کے علاوہ فوائد میں کمی کو مزدوروں پر پڑنے والے منفی اثرات کہا۔

طلبہ پر منفی اثرات کے سوال پر 76 فیصد نے آن لائن کلاسز کے لیے سہولیات یعنی کمپیوٹر کی عدم دستیابی اور 59 فیصد نے انٹرنیٹ کنکشن نہ ہونے کو طلباء کے لیے کورونا کا منفی اثر کہا۔

ڈاکٹرز اور صحت کے شعبے سے منسلک افراد پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 73 فیصد نے حفاظتی سازوسامان کی عدم دستیابی کو ان کے لیے سب سے اہم منفی اثر کہا۔

52 فیصد نے اوور ٹائم نہ ملنے، 50 فیصد نے مریضوں کے اہل خانہ کے جانب سے دھمکیوں اور 47 فیصد نے کام کے طویل اوقات کو کورونا کے ان پر اہم منفی اثر کہا۔

خواتین پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 74 فیصد نے ذمہ داریوں کے بڑھ جانے، 69 فیصد نے گھریلو تشدد کے بڑھنے، 51 فیصد نے روزگار کے کھو نے یا چھن جانے جب کہ 39 فیصد نے صحت کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کو خواتین پر کورونا کا منفی اثر کہا۔

بچوں پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 82 فیصد نے آن لائن تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی ، 46 فیصد نے تشدد میں اضافے جب کہ 36 فیصد نے جبری مشقت کو بچو ں کےلیے کورونا کے اہم منفی اثرات میں گنوایا۔

سروے میں یہی سوال معذور افراد کے بارے میں بھی کیا گیا جس کے جواب میں 81 فیصد نے صحت کے سہولیات کی عدم دستیابی اور 44 فیصد نے شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث حکومتی امداد نہ ملنے کو معذور افراد کےلیے اس وبا کا اہم منفی اثر کہا۔

مخنث افراد کےلیے 61 فیصد نےکہا کہ حکومتی امداد تک رسائی میں امتیاز ، 48 فیصد نے صحت کی سہولیات اور 31 فیصد نے این جی او ز کی جانب سے دی جانیوالی امداد میں امتیاز کو مخنث افراد کےلیے کورونا کے سب سے اہم منفی اثرات میں گنوایا۔

مذہبی اقلیتوں کے لیے بھی53 فیصد نے صحت کی سہولیات دینے میں امتیاز، 50 فیصد نے حکومتی امداد اور 42 فیصد نے این جی اوز کے جانب سے ملنے والی امداد میں امتیاز کو مذہبی اقلیتوں کےلیے اہم منفی اثر کہا۔

سب سے آخر میں عمر رسیدہ افراد پر کورونا کے منفی اثرات کے سوال پر 78 فیصد نے لوگوں سے محدود میل جول کے باعث سماجی تنہائی، 68 فیصد نے صحت کی سہولیات تک محدود رسائی اور 29 فیصد نے روزگار کے کھو جانے کو عمر رسیدہ افراد پر کورونا کے منفی اثرات میں گنوایا۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے196 افراد کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم معطل

Read Next

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی جاسوسی کرنے والے مخبر کو سزائے موت دے دی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے