• اپریل 16, 2021

کرونا وائرس کی نئی قسم سے متعلق عالمی ادارہ صحت کا اہم بیان

جنیوا: کرونا وائرس کی نئی قسم سے متعلق عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس کے زیادہ خطرناک ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقا میں کرونا وائرس کی نئی قسم کے نمودار ہونے کا جائزہ لیا جا رہا ہے، یہ نئی قسم پہلے سے زیادہ خطرناک یا زیادہ مہلک ہونے کے ابھی کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کے مرکزی آفس میں معمول کی بریفنگ دی گئی ہے، حکام کا کہنا تھا کہ نئی قسم کے کرونا وائرس سے متعلق ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔ حکام نے اجلاس میں بتایا کہ برطانیہ سے موصول شدہ رپورٹس میں مذکور کیا گیا ہے کہ کرونا کی نئی قسم زیادہ تیزی کے ساتھ ایک سے دوسرے میں منتقل ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈی جی ٹیڈروس ایڈھانم کا کہنا تھا کہ وائرس وقت کے ساتھ ساتھ شکل بدلتا رہتا ہے، ہم سائنس دانوں سے مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس میں کس قسم کی جینیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے لوگوں کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا، وائرس کو پھیلاؤ سے جلد ازجلد روکنا ہی سب سے زیادہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کرونا وائرس کو جتنا پھیلنے دیا جائے گا اتنا ہی اسے تبدیل ہونے کا موقع ملے گا۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

کرونا وائرس، حاملہ خواتین اور بچے کو کن مہینوں میں زیادہ متاثر کرتا ہے؟

Read Next

ڈاکٹرز نے بزرگ شہری کی ناک میں‌ پھنسا 53 سال پرانا سکہ نکال لیا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے