• جنوری 22, 2021

کرونا وائرس، حاملہ خواتین اور بچے کو کن مہینوں میں زیادہ متاثر کرتا ہے؟

نیویارک: امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی 6 ماہ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والی حاملہ خواتین کے بچوں کی نشوؤنما کافی حد تک کم ہوتی ہے۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے طبی ماہرین نے حاملہ خواتین سے نومولود بچوں میں کرونا وائرس کی منتقلی کے حوالے سے تحقیقی مطالعہ کیا۔ مطالعے کے دوران اپریل سے جون تک ماں بننے والی 64 خواتین اور بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو خواتین آخری کے تین ماہ میں کرونا سے متاثر ہوئیں اُن کے بچے وائرس سے محفوظ رہے، یعنی ایسی خواتین کے بچوں میں وائرس منتقل ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔  میساچوسٹس جنرل اسپتال اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کی مشترکہ تحقیقی ٹیم نے وہ خواتین جو حاملہ ہونے کے 6 ماہ کے دوران کرونا کا شکار ہوئیں اُن کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچوں کو وائرس منتقل ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ ڈاکٹر ڈیانا بیناشی (سربراہ تحقیقی ٹیم) کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ابتدائی 6 ماہ میں وائرس سے شدید متاثر ہونے والی حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچوں کو خوراک دیگر کے مقابلے میں کم منتقل ہوئی جس کی وجہ سے اُن کی نشوؤنما متاثر ہوئی‘۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

کورونا کی نئی قسم : روسی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا

Read Next

کرونا وائرس کی نئی قسم سے متعلق عالمی ادارہ صحت کا اہم بیان

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے