• جولائی 6, 2022

کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ، شہری خوف زدہ

کراچی: کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے مسلسل واقعات کے باعث شہری خوف زدہ نظر آتے ہیں، سالوں سے مناسب اقدامات نہ ہونے کے باعث کتوں کی بڑھتی آبادی شہریوں کیلئے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔

شہر میں آوارہ و پاگل کتے شہریوں کیلئے بڑا خطرہ بن گئے، حکومتی سطح پر کتوں کی تعداد پر قابو پانے کیلئے نس بندی مہم تو چلائی جارہی ہے مگر خطرناک کتوں سے شہریوں کے تحفظ کے اقدامات نظرانداز کردئیے گئے ہیں۔ شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات سے شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں۔گلی ، محلوں ، پارک ، کھیل کے میدان ، تعلیمی ادارے ، بس سٹاپ ، بازار حتی کہ ہسپتالوں کے اندر بھی آوارہ کتوں کے غول کے غول جمع نظر آتے ہیں۔ خواتین ، بچے اور عمر رسیدہ افراد خطرناک آوارہ اور پاگل کتوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

شہرکے تمام اضلاع میں آوارہ کتوں کی بہتات کے باعث شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ سگ گزیدگی کے مسلسل واقعات اور شکایات کے باوجود بھی متعلقہ ادارے موثراقدامات سے گریزاں ہیں۔ ضلع شرقی سے سابق بلدیاتی نمائندے جنید مکاتی کے مطابق ضلعی انتظامیہ کتا مار مہم کے نام پر مبینہ کرپشن کررہی ہے۔ لاکھوں روپے مالیت سے خریدا گیا زہر، مبینہ طور پر سپلائر کو ہی فروخت کردیا جاتا ہے، شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات نہیں کئے جارہے۔

کتوں کی نسل کشی کے خلاف ایک فلاحی تنظیم معاملہ عدالت لے گئی۔ متعلقہ اداروں کو بھی کارروائی نہ کرنے کا جواز مل گیا تاہم سگ گزیدگی کے واقعات پیش آنے کی شکایات پر محدود سطح پر زہر دے کر کتوں کو مارا بھی جاتا ہے۔

برسوں سے کتا مار مہم موثر طریقے سے نہ چلائے جانے کے باعث شہر میں لاکھوں کی تعداد میں آوارہ کتے گھوم رہے ہیں جو زیادہ تر بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کچرے کے ڈھیر خوراک کا ذریعہ بننے سے کتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

شہر میں کتوں کی بہتات جہاں مسئلہ بنی ہوئی ہے وہیں سگ گزیدگی کے شکار بچے اور دیگر افراد کو بروقت ویکسین نہ لگنے سے اموات بھی ہو جاتی ہیں۔ شہر میں رواں سال کتے کے کاٹے کے 23 ہزار واقعات انڈس ہسپتال ، سول ہسپتال اور جناح ہسپتال میں رپورٹ کئے گئے ہیں۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

کراچی: نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ، احتجاج جرم قرار، نوٹیفکیشن جاری

Read Next

سعودی عرب، عمرہ زائرین کیلئے 50 سال عمر کی حد ختم کر دی گئی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔