• اکتوبر 19, 2021

کالعدم ٹی ٹی پی میں شامل کچھ گروپوں سے مذاکرات کر رہے ہیں: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان ہے کہ ہماری حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان دیا تھا۔

 ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں۔

انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ بات چیت ہتھیار ڈالنے پر ہو رہی ہے جس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی عمل کے بارے میں ہے۔ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں انہیں معافی دی جا سکتی ہے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ میں معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں ہوں اور کسی قسم کے معاہدے کے لیے پرامید ہوں تاہم ممکن ہے کہ طالبان سے بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کیا افغان طالبان پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے مدد ہو رہی ہے کہ یہ بات چیت افغان سرزمین پر ہو رہی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب ان کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات چیت کر رہی ہے تو تنظیم حملے کیوں کر رہی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔

اس سے قبل سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لوگ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کا وعدہ کریں اور آئین پاکستان کو تسلیم کریں تو حکومت اراکین کو معاف کرنے کیلئے تیار ہو سکتی ہے۔

وفاقی وزیر خارجہ نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو تشویش تھی کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں کو افغان طالبان کے قبضے کے بعد جیلوں سے رہا کیا جارہا ہے۔ اگر افغان حکومت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتی ہے اور ٹی ٹی پی سے بات کرے اور اگر ٹی ٹی پی قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو، حکومت اور آئین پاکستان کی رٹ کے سامنے ہتھیار ڈالے تو ہم یہاں تک ان کو معافی کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک وہ نہیں آتے اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں ختم نہیں ہوتیں اس وقت تک ہمیں تشویش ہے۔ اگر وہ رہائی کے بعد یہاں ہمارے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں تو معصوم لوگوں کی جانوں پر اثر پڑے گا اور ہم ایسا نہیں چاہتے ہیں۔ پاکستان کو افغان طالبان کی جانب سے زبانی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ افغانستان سے پاکستان کے اندر کسی گروپ کو دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے اور پاکستان اس حوالے سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی طالبان قیادت کا رویہ 1990ء کی دہائی کے مقابلے میں مختلف ہے کیونکہ کابل میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو برداشت کیا گیا۔ اشرف غنی کو ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان نے مسلسل نشاندہی کی لیکن انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا اب دیکھنا ہے کہ افغان طالبان اپنی یقین دہانیوں پر کام کرتے ہیں یا نہیں۔ پاکستان کی سرزمین میں افغانستان سے آنے والے افراد کے لیے کوئی مہاجر کیمپ یا دوبارہ آباد کرنے کی کوئی سہولت نہیں دی جا رہی ہے۔ پاکستان ان افراد کے انخلا میں سہولت فراہم کرے گا جن کے پاس مصدقہ دستاویزات ہیں۔ افغانستان سے ملحق پاکستانی سرحد پر کوئی دباؤ نہیں ہے کیونکہ افغانستان سے کسی کو بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب ملک میں امن و استحکام آگیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری اپنی مجبوریاں ہیں کیونکہ ہم کئی دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں جو تقریباً 40 لاکھ بن جاتے ہیں اور ہم بغیر کسی بین الاقوامی امداد کے ان سے تعاون کر رہے ہیں اور اب مزید مہاجرین کی میزبانی برداشت کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، پنجاب اسمبلی کے ایوان میں چور چور کے نعرے

Read Next

ایک اور بھارتی اداکارہ نے خودکشی کرلی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے