• اگست 2, 2021

پنجاب حکومت نےکورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث صرف 10 اضلاع کی مساجد میں اعتکاف کی اجازت دی ہے۔ کورونا کے باعث مساجد میں اعتکاف کا اہتمام محدود پیمانے پر کیا گیا ہے اور احتیاطی تدابیر کا بھی خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ لاہور سمیت صوبےکے 26 اضلاع میں شہریوں کو مساجد میں اعتکاف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اٹک، گجرات، ساہیوال، بہاولپور، چنیوٹ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، ڈی جی خان، حافظ آباد اور جھنگ کی مساجد میں اعتکاف کیا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ زیادہ شرح والے اضلاع کے شہری گھروں پر اعتکاف کریں۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان کی مساجد میں اعتکاف کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں لاکھوں مسلمان اعتکاف بیٹھ گئے لاہور میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام جامع مسجد داتا دربار، آسٹریلیا مسجد ریلوے اسٹیشن اور دیگر مساجد میں کسی کو اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مساجد میں کورونا سے بچاؤ کیلئے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ معتکفین کو ہدایت کی گئی کہ سب ایک ساتھ اکٹھے بیٹھ کر سحر و افطار سے گریز کریں۔ بچوں اور پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کو مساجد نہ آنے کی ہدایت کی گئی۔ بستر، چادر، پردے اور برتن گھروں سے لے کر آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ این سی او سی نے ہدایات میں یہ بھی کہا ہے کہ اعتکاف کرنے والے افراد کسی دوسرے فرد کی کوئی بھی چیز استعمال نہ کریں۔

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے سفیرو ں سے گفتگو میں کہا کہ آج کی نشست کا مقصد اسلام فوبیا کے پھیلاوَ سے متعلق ایشوز زیر بحث لانے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں اسلام فوبیا میں اضافہ ہوا ہے اور مغربی ممالک میں مذہب کو مذہب کی طرح نہیں سمجھا جاتا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمارے نبی ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور بدقسمتی سے بعض مغرب ممالک میں مذہب اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور اسلامو فوبیا سے بین المذاہب نفرت کو ہوا ملتی ہے۔ اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لیے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کی جان بوجھ کر دل آزاری کی جا رہی ہے اور میری کوشش ہے کہ مسلم ممالک اس حساس معاملے پر متحد ہو۔ او آئی سی اس حوالے سے عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے میں کردار ادا کرے۔

وزیر اعظم عمران خان نے تمام مذاہب کے پیروں کاری کی دل آزاری روکنے کے لیے قانونی اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان دنیا میں برداشت کے فروغ کے لیے عالمی برادری سے تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کو اسلام سے جوڑنے اور توہین آمیز کلمات سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

او آئی سی ممالک کے سفیرو ں نے وزیر اعظم عمران خان کو معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

پنجاب:صرف10اضلاع کی مساجد میں اعتکاف کی اجازت

Read Next

جس کام کی نگرانی وزیر اعظم کرتے ہیں اس کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے، شاہد خاقان

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے