• مئی 23, 2022

پلاسٹک کی آلودگی سے 88 فیصد سمندری حیات متاثر

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق سمندر میں پلاسٹک کی آلودگی سے 88 فیصد سمندری حیات متاثر ہو چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ انواع میں وہ مچھلیاں بھی شامل ہیں جو عام طور پر انسان اپنی غذا میں استعمال کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے جانداروں سے لے کر وہیل مچھلیوں کے پیٹ تک میں  پلاسٹک پایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل میں پلاسٹک کے جزیرے بن چکے ہیں جو پلاسٹک کے تیرتے ہوئے ٹکڑوں کے جمع ہونے سے بنے ہیں۔

سطح سمندر سے لے کر اس کی گہرائی تک، قطبین سے لے کر دور دراز کے ساحلوں اور جزائر تک تقریباﹰ ہر سمندری حصے میں پلاسٹک پایا جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق 2144 سمندری اقسام کی آماجگاہوں کو پلاسٹک کی آلودگی سے خطرات کا سامنا ہے جبکہ ان میں سے درجنوں اقسام پلاسٹک کھانے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 90 فیصد سمندری پرندوں اور 50 فیصد کچھوؤں کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گھونگھوں، شیل فش اور سیپیوں تک میں بھی پلاسٹک کا مواد پایا گیا ہے۔  رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ پلاسٹک کی پیداوار 2040 تک دگنی ہو جائے گی اور اس سے سمندروں میں پلاسٹک کے فضلے میں چار گنا اضافہ ہو گا۔

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال میں تبدیلی نہ لائی گئی توایکو سسٹم تباہ ہو سکتا ہے، جس سے سمندری خوراک کا نظام مکمل طور پر متاثر ہو گا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اپیل کی ہے کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی اجلاس میں پلاسٹک کے حوالے سے ایک عالمی معاہدہ طے کیا جائے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

حجاب پہننے والی لڑکی ایک دن بھارت کی وزیر اعظم بنے گی، اسدالدین اویسی

Read Next

Headlines | 14 February 2022 | A1 TV

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے