• جولائی 28, 2021

ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ’’جڑواں بھائی‘‘

لاہور: اس مضمون میں ہم اپنے معزز قارئین کو ان جڑواں بھائیوں کے بارے میں بتائیں گے جو ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ یہ قدرت کے کمالات ہیں کہ ان جڑواں بھائیوں نے اپنا کرکٹ کیرئیر کامیابی سے مکمل کیا۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ جڑواں بہنوں نے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی اور کافی شہرت حاصل کی لیکن اس مضمون میں صرف جڑواں بھائیوں کا ذکر ہوگا جنہوں نے کرکٹ میں نام کمایا۔

سٹیووا، مارک وا

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے وا برادران نے ایک طویل عرصے تک اپنے دلکش کھیل سے کرکٹ شائقین کو محفوظ کیا ۔ 1991ء میں پہلی بار ایسا ہوا جب دو جڑواں بھائیوں سٹیووا اور مارک وا نے ٹیسٹ میچ حصہ لیا۔ کہا جاتا ہے کہ سٹیووا اپنے بھائی مارک وا سے پانچ منٹ بڑے ہیں۔ سٹیووا کا پورا نام سٹیفن وا ہے ۔ دونوں بھائیوں نے جو اکٹھے پہلا ٹیسٹ کھیلا وہ ویسٹ انڈیز کیخلاف تھا جو 5اپریل 1991ء کو ٹرینڈڈ میں شروع ہوا۔ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کا یہ تیسرا ٹیسٹ تھا جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ سٹیووا نے پہلی اننگز میں 26 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں انہیں بلے بازی کا موقع نہ مل سکا۔ مارک وا نے پہلی اننگز میں 64 رنز بنائے۔ آسٹریلیا پہلی اننگز میں 294 رنز بنا کر آئوٹ ہو گیا جبکہ ویسٹ انڈیز اس کے جواب میں 227 رنز بنا سکا اس طرح آسٹریلیا کو 67 رنز کی سبقت حاصل ہو گئی ۔ دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے تین وکٹوں پر 123 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا۔ دونوں بھائیوں نے 108 ٹیسٹ میچز اکٹھے کھیلے۔ سٹیووا نے پہلا ٹیسٹ میچ 1985 میں ’’باکسنگ ڈے‘‘ کے موقع پر بھارت کے خلاف کھیلا جبکہ مارک وا نے پہلا ٹیسٹ 1991ء میں انگلینڈ کے خلاف اوول میں کھیلا لیکن دونوں بھائیوں نے جو پہلا ٹیسٹ اکٹھے کھیلا وہ 1991ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا۔ سٹیووا نے بہت عرصے تک آسٹریلوی ٹیم کی کپتانی کی اور ان کا شمار آسٹریلیا کے بہترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ وہ اس آسٹریلوی ٹیم کے کپتان تھے جس نے 1999 کا ورلڈکپ جیتا۔

2 جون 1965 ء کو آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے سٹیووا نے 168 ٹیسٹ اور 325ایک روزہ میچزکھیلے۔ ٹیسٹ میچز میں انہوں نے 51.1رنز کی اوسط سے 10927رنز بنائے جبکہ ایک روزہ میچز میں انہوں نے 32.9رنز کی اوسط سے 7569 رنز اپنے نام کیے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سٹیووا کا ٹیسٹ ریکارڈایک روزہ میچز کے ریکارڈ سے خاصا بہتر ہے۔ انہوں نے کائونٹی کرکٹ بھی کھیلی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 32سنچریاں اور 50نصف سنچریاں بنائیں جبکہ ایک روزہ میچز میں ان کی سنچریوں کی تعداد تین تھی۔ انہوں نے 45نصف سنچریاں بھی اپنے نام کیں۔ ایک ٹیسٹ اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 200رہا جبکہ ایک روزہ میچز میں یہ سکور 120ناٹ آئوٹ تھا۔ سٹیووا میڈیم پیس بائولنگ بھی کراتے رہے۔ ٹیسٹ میں ان کی وکٹوں کی تعداد 92تھی اور ایک روزہ میچز میں یہ تعداد 195رہی۔ 1987 ء کے ریلائنس ورلڈ کپ میں وہ آسٹریلوی ٹیم کا حصہ تھے اور انہیں آل رائونڈر کی حیثیت سے شامل کیا گیا تھا۔ سیمی فائنل میں جس آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کو ہرایا‘ سٹیووا اس میں شامل تھے۔ پاکستان کی اس غیر متوقع شکست نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ پاکستان اس ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم تھی بہرحال اس میچ میں بھی سٹیووا بلے بازی کے ساتھ بائولنگ بھی کرتے نظر آئے۔ البتہ بائولنگ میں ان کی اوسط کوئی اتنی قابل رشک نہیں رہی۔ انہوں نے ٹیسٹ میچز میں 37.44 اور ایک روزہ میچز میں 34.67رنز کی اوسط سے وکٹیں حاصل کیں۔

سٹیووا بڑے مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت 1999 ء کا ورلڈکپ سیمی فائنل تھا جو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا گیا ۔ آسٹریلوی ٹیم صرف 213رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی۔ جنوبی افریقہ کیلئے یہ ہدف حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں تھا لیکن آسٹریلوی بائولرز اور کپتان ہمت اور حوصلے کی چٹان بن گئے۔ سٹیووا نے آہنی اعصاب کا مظاہرہ کیا اوریہ میچ ٹائی ہو گیا۔ اس وقت کے برق رفتار بائولرز کو بھی وہ بڑے حوصلے اور اعتماد کے ساتھ کھیلتے تھے البتہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ شعیب اختر کے خلاف کھیلتے ہوئے وہ گھبرا جاتے تھے۔ ویسے تو شعیب اختر کو کھیلتے ہوئے اس وقت کے سبھی ورلڈکلاس بلے باز خوف کا شکار ہو جاتے تھے۔ میتھیو ہیڈن اور ہرشل گبز کا کہنا ہے کہ شعیب اختر ایک ہیبت ناک بائولر تھا۔ سٹیووا نے مسلسل 16 ٹیسٹ میچز جیت کر ورلڈریکارڈ بھی قائم کیا۔

مارک وا بھی اپنے بھائی کے ساتھ 2جون 1965ء کو پیدا ہوئے۔ اس وقت دونوں بھائی 56برس کے ہو چکے ہیں۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی کبھی کبھی آف بریک بائولنگ کراتے تھے۔ مارک وا نے 128ٹیسٹ اور 244ایک روزہ میچز کھیلے۔ انہوں نے 1988 ء سے لے کر 2002تک آسٹریلیا کی طرف سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔ 25جنوری 1991ء کو انہوں نے انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ ان کا آخری ٹیسٹ 2002ء میں پاکستان کیخلاف تھا جو انہوں نے 19اکتوبر کو کھیلا۔ ان کا پہلا ایک روزہ میچ پاکستان کے خلاف اور آخری میچ جنوبی افریقہ کیخلاف تھا۔ مارک وا نے ٹیسٹ میچز میں 41.81 رنز کی اوسط سے 8029 رنز بنائے جن میں 20سنچریاں اور 47 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ٹیسٹ میں ایک اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 149 رنز ناٹ آئوٹ تھا۔ انہوں نے ایک روزہ میچز میں 39.35رنز کی اوسط سے 8500 رنز بنائے۔ جن میں18سنچریاں اور 50نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ایک روزہ میچز میں ان کازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 149رنز رہا۔ مارک وا نے ٹیسٹ میچز میں 59 اور ایک روزہ میچز میں 85وکٹیں اپنے نام کیں۔ ٹیسٹ میں ان کی بہترین بائولنگ 40رنز کے عوض پانچ وکٹیں تھیں۔ ایک روزہ میچز میں مارک وا کی سب سے اچھی بائولنگ 24رنز کے عوض 5وکٹوں کا حصول تھا۔ انہوں نے 368 فسٹ کلاس میچز کھیلے اور 26855 رنز بنائے۔ وہ سلپ کے بہترین فیلڈر بھی تھے۔ ٹیسٹ میچز میں ان کے کیچز کی تعداد 181جبکہ ایک روزہ میچز میں یہ تعداد 108ہے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ تبصرہ نگاری کرتے ہیں۔

ایرک بیڈسر، ایلک بیڈسر

ان جڑواں بھائیوں کا تعلق انگلینڈ سے تھا۔ ایرک بیڈسٹر نے اپنے پورے کیرئیر میں فسٹ کلاس کرکٹ کھیلی لیکن ٹیسٹ میں کوئی نہیں کھیلا۔ دونوں بھائیوں نے فسٹ کلاس کرکٹ تو کھیلی لیکن ایلک بیڈسٹر نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی نام کمایا۔ ایلک بیڈسر کا شمار انگلینڈ کی تاریخ کے بہترین میڈیم فاسٹ بائولرز میں کیا جاتا ہے۔ ان دونوں بھائیوں نے اکٹھے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی کیونکہ ایک بھائی (ایرک) فسٹ کلاس کرکٹ ہی کھیلتا رہا۔ ان دونوں بھائیوں کا دور وا برادرز سے بہت پہلے کا ہے۔ وا برادرز کو اس لیے وہ پہلے جڑواں بھائی کہا جاتاہے جنہوں نے اکٹھے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔

ایرک بیڈسر 4جولائی 1918 کو انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ سرے کائونٹی کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلتے رہے۔ وہ ایلک بیڈسر کے بڑے بھائی تھے۔ ایرک ایک عمدہ بلے باز اور ایک اچھے آف بریک بائولر تھے۔ ایرک اپنے جڑواں بھائی ایلک سے 10منٹ بڑے تھے۔ تمام عمر کوئی ان کو الگ نہیں کر سکا کیونکہ ان دونوں بھائیوں نے شادی نہیں کی۔ اکثر اوقات وہ لباس بھی ایک جیسا پہنتے تھے۔ ان کے والد بھی پہلے کرکٹ اور پھر فٹ بال کھیلتے رہے۔
ایرک نے 457فسٹ کلاس میچز کھیلے اور 24.00کی اوسط سے 14716 رنز بنائے۔ انہوں نے 10سنچریاں اور 61نصف سنچریاں بنائیں، ایک اننگزمیں ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 163 رنز تھا۔ انہوں نے 24.95 رنز کی اوسط سے 833وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ایرک بیڈسر نے 24مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں اڑائیں جبکہ 4 دفعہ ایک میچ میں 10وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کی بہترین بائولنگ 33رنز کے عوض 7 وکٹیں تھیں۔ا ن سب کے علاوہ ایرک بیڈسر نے 236 کیچز بھی پکڑے ویسے تو ایرک بیڈسر آل رائونڈر تھے لیکن ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ بلے بازی سے زیادہ انہوں نے بائولنگ میں کمالات دکھائے۔ انہوں نے 23برس تک فسٹ کلاس کرکٹ کھیلی لیکن انگلینڈ کی طرف سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ اپنے بھائی ایلک بیڈسر کے ساتھ کاروبار کرنے لگے۔ یہ دونوں جڑواں بھائی ایک ہی گھر میں رہے جسے انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔ ایرک بیڈسر کا 87برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔

ان کے بھائی ایلک بیڈسر کا شمار 20ویں صدی کے انگلینڈ کے بہترین کرکٹرز میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی ایرک کے ساتھ مل کر 1939ء سے 1960ء تک سرے کائونٹی کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔ ان کے بڑے بھائی ایرک نے کوئی ٹیسٹ میں نہیں کھیلا لیکن ایلک نے 51ٹیسٹ میچز میں حصہ لیا۔ وہ بہت عمدہ میڈیم فاسٹ بائولر تھے، انہوں نے 24.9 رنز کی اوسط سے 236وکٹیں حاصل کیں۔انہیں سر کا خطاب بھی دیا گیا ، انہوں نے بریڈ مین کو 6بار آئوٹ کیا ۔

ہمیش مارشل، جیمز مارشل

ان دونوں جڑواں بھائیوں کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے۔ ہمیش مارشل نے ہر طرح کی کرکٹ کھیلی۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے اور دائیں ہاتھ سے ہی میڈیم فاسٹ بائولنگ بھی کرتے تھے۔

15فروری 1979ء کو پیدا ہونے والے ہمیش مارشل نے 7سال نیوزی لینڈ کی طرف سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ 8دسمبر 2013 ء کو جنوبی افریقہ کی خلاف کھیلا۔ ساتویں نمبر پر بلے بازی کرنے والے ہمیش مارشل نے پہلے ٹیسٹ میچ میں 40رنز ناٹ آئوٹ بنائے۔ انہوں نے 13ٹیسٹ میچز میں 38.35 رنز کی اوسط سے 652رنز بنائے جن میں 2 سنچریاں اور 2نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 160تھا۔ ہمیش مارشل نے 66ایک روزہ میچز بھی کھیلے۔ انہوں نے ایک روزہ میچز میں1 سنچری اور 12 نصف سنچریاں اپنے نام کیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 101رنز ناٹ آئوٹ رہا۔ ہمیش مارسل نے 2006ء میں گلوسٹر شائر کی طرف سے کائونٹی کرکٹ کھیلنا شروع کی اور اس کے بعد وہ ہر سیزن میں باقاعدگی سے کھیلتے رہے۔ 2011ء میں ہمیش مارشل اور کیون اوبرین بلے بازوں کی وہ پہلی جوڑی بن گئی جس نے ایک ٹی ٹونٹی میچ میں سنچریاں بنائیں اور اس جوڑی نے یہ کارنامہ گلوسٹر شائر کائونٹی کی طرف سے سرانجام دیا۔

جون 2012ء میں ہمیش مارشل کو گلوسٹر شائر کائونٹی کرکٹ کلب کا ٹی 20میچز کیلئے کپتان مقرر کر دیا گیا۔ 2003-04 ء میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ایک روزہ میچز کی سیریز کھیلی۔ تیسرے میچ میں انہوں نے فیصل آباد میں 101رنز ناٹ آئوٹ بنائے۔ انہوں نے 2003-04 ء میں نیوزی لینڈ کو جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں فتح دلانے کیلئے اہم کردار اداکیا۔ انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ بھی 2006ء میں جنوبی افریقہ کیخلاف کھیلا۔
ہمیش مارشل نے اپنا پہلا ایک روزہ میچ 29نومبر 2003ء کو پاکستان کیخلاف کھیلا جبکہ ان کا آخری ایک روزہ میچ 2007ء میں آئرلینڈ کے خلاف تھا۔ اس طرح انہوں نے نیوزی لینڈ کی طرف سے سات سال (2000-2007ء ) تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔ ہمیش مارشل نے آئی سی ایل کی طرف سے بھی کرکٹ کھیلی۔

ان کے جڑواں بھائی جیمز مارشل دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی میڈیم فاسٹ بائولنگ کرتے تھے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی طرف سے3 سال (2005-2008ء) تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے 7 ٹیسٹ میچز میں 19.81رنز کی اوسط سے 218رنز بنائے جن میں ایک نصف سنچری شامل ہے۔ 10ایک روزہ میچز میں جیمز مارشل نے 25.00رنز کی اوسط سے 250رنز بنائے جن میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔ اگر ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو ہمیش مارشل کی کارکردگی اپنے جڑواں بھائی جیمز کی نسبت بہت بہتر تھی۔ بہرحال ان دونوں جڑواں بھائیوں نے انٹرنیشنل کرکٹ اکٹھے کھیل کر تاریخ میں اپنا نام محفوظ کر لیا۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

فلپائن میں سی 130 طیارہ گر کر تباہ، 17 فوجی ہلاک، 40 زخمی

Read Next

غیر ملکی ٹیمیں ٹوکیو اولمپک میں شرکت کے لئے جاپان پہنچنا شروع

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے