• دسمبر 8, 2021

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی رشتہ ازدواج میں منسلک

لاہور: پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے نکاح کی تصدیق کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے لکھا کہ آج کا دن میری زندگی کا سب سے قیمتی دن ہے،میں اور عاصر (Asser)زندگی بھر کے لئے ہمسفر بن گئے ہیں۔

ٹوئٹر پر انہوں نے مزید لکھا کہ ہمارے نکاح کی تقریب برمنگھم والے گھر میں ہوئی ،برائے کرم ہمیں اپنے دعاؤں میں یاد رکھیں،ہم اپنی نئی زندگی کے سفر کے لئے بہت پرجوش ہیں۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے ملالہ یوسفزئی کو شادی پر ٹویٹر پر مبارکباد دی اور ماشاء اللہ بھی لکھا۔

ملالہ یوسفزئی کون ہیں؟

 ملالہ یوسف زئی 12 جنوری، 1997ء کو خیبرپختونخوا کے علاقے سوات میں پیدا ہوئیں، وہ خواتین کی تعلیم کی سرگرم رکن ہیں اور انہیں کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کم سن فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی وجہ شہرت اپنے آبائی علاقے سوات اور خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں کام کرنا ہے جب مقامی طالبان نے لڑکیوں کو سکول جانے سے روک دیا تھا۔

سوات میں سکولوں کا ایک سلسلہ ملالہ کے خاندان کی ملکیت ہے۔ 2009ء کی ابتدا میں 11 یا 12 سالہ ملالہ نے “گل مکئی” کے قلمی نام سے بی بی سی کے لیے ایک بلاگ لکھا جس میں ملالہ نے طالبان کی طرف سے وادی پر قبضے کے خلاف لکھا تھا اور اپنی رائے دی تھی کہ علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اسی دوران2009 ء کی گرمیوں میں جب پاک فوج نے سوات کی دوسری جنگ میں اس علاقے سے طالبان کا خاتمہ کیا تو نیویارک ٹائمز کے صحافی ایڈم بی ایلک نے ملالہ کی زندگی کے بارے ڈاکومنٹری بنائی۔ ملالہ مشہور ہو گئی اور اس کے انٹرویو اخبارات اور ٹی وی کی زینت بننے لگے۔

ان کا نام بین الاقوامی امن ایوارڈ برائے اطفال کے لیے جنوبی افریقا کے ڈیسمنڈ ٹوٹو نے پیش کیا۔ 9 اکتوبر، 2012ء کو ملالہ سکول جانے کے لیے بس پر سوار ہوئی۔ مسلح شخص نے بس روک کر نام پوچھا اور 3 گولیاں ماریں۔ ایک گولی ان کے ماتھے کے بائیں جانب لگی اورکھوپڑی کی ہڈی کے ساتھ ساتھ کھال کے نیچے سے حرکت کرتی ہوئی اس کے کندھے میں جا گھسی۔

حملے کے کئی روز تک ملالہ بے ہوش رہی اور انکی حالت نازک تھی تاہم جب ملالہ کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو اسے برمنگھم کے کوئن الزبتھ ہسپتال کو بھیج دیا گیا تاکہ اس کی صحت بحال ہو۔جہاں پر ان کا علاج ہوا اور وہیں پر رہ کر زندگی گزار رہی ہیں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے متحرک ہیں۔

12 جولائی 2013ء کو ملالہ نے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں تعلیم تک رسائی دی جائے۔ ستمبر 2013ء میں ملالہ نے برمنگھم کی لائبریری کا باضابطہ افتتاح کیا۔ ملالہ کو 2013ء کا سخاروو انعام بھی ملا۔

16 اکتوبر 2013ء کو حکومتِ کینیڈا نے اعلان کیا کہ کینیڈا کی پارلیمان ملالہ کو کینیڈا کی اعزازی شہریت دینے کے بارے بحث کر رہی ہے۔ فروری 2014ء کو سوئیڈن میں ملالہ کو ورلڈ چلڈرن پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ 15 مئی 2014ء کو ملالہ کو یونیورسٹی آف کنگز کالج، ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ دی گئی۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

علامہ اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا تصور دیا: مریم نواز

Read Next

اپوزیشن کا حکومت کو قانون سازی کے معاملے پر ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے