• اپریل 18, 2021

میں زندہ ہی نہیں رہنا چاہتی تھی،میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کا اوپرا ونفری کے ساتھ انٹرویو

میں نے کئی بار خودکشی کا سوچا، میگھن مارکل کےبرطانوی شاہی خاندان کے بارے میں انکشافات

ڈچس آف سسیکس اور اداکارہ میگھن مارکل نے امریکی ٹی وی میزبان اوپرا ونفری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ جب وہ شاہی خاندان کا حصہ تھیں تو انھوں نے خودکشی کے بارے میں سوچا تھا اور جب انھوں نے مدد مانگی تو انھیں کوئی سہارا نہیں ملا۔امریکی چینل سی بی ایس پر اتوار کی شب نشر ہونے والے اس انٹرویو میں شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ نے اُن وجوہات کا ذکر کیا جن کے باعث انھوں نے شاہی زندگی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا اور اب یہ جوڑا امریکہ میں مقیم ہے۔انٹرویو میں دونوں نے دل کھول کر اپنا موقف بیان کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ شاہی خاندان کے ساتھ گزرے وقت کے دوران انھیں کن تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔‘اپنے پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے کا وقت یاد کرتے ہوئے میگھن نے بتایا ’جب میں حاملہ تھی تو اردگرد ایسی باتیں ہو رہی تھیں کہ بچے کی پیدائش پر اس کی جِلد کتنی سیاہ ہوگی۔‘ تاہم انھوں نے شاہی خاندان کے اس فرد کا نام لینے سے انکار کیا جس نے ہیری سے یہ بات کی تھی۔جب میگھن سے پوچھا گیا کہ انھوں نے ماضی میں ایسا کیوں کہا کہ شاہی خاندان میں ان کے لیے زندگی گزارنا ناممکن تھا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ‘میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔ میں شرمندہ تھی کہ ہیری کو کتنا نقصان ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میگھن  نے کہا یہ خبریں غلط ہیں کہ آرچی کو شاہی لقب نہ دینے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا اور دعویٰ کیا کہ شاہی خاندان کے اصول بدل دیے گئے تاکہ آرچی کو شاہی لقب نہ مل سکے۔ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ خاندان میں دیگر بچوں کے برعکس ایک غیر سفید فام بچے کو شاہی لقب دے کر سکیورٹی نہیں دی جائے گی۔’جب میں حاملہ تھی تو انھوں نے کہا کہ وہ آرچی (میگھن اور ہیری کے بیٹے) کے لیے اصول بدل رہے ہیں۔ لیکن کیوں؟’جب انھوں نے اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے مدد حاصل کرنا چاہتی تو شاہی خاندان نے ان کی یہ گزارش مسترد کر دی تھی۔ایک اور سوال کا  میگھن نے جواب دیا، ‘میں نے سوچا کہ میری خودکشی سے بہت سے لوگوں کے لیے بہت کچھ حل ہو جائے گا۔میگھن کے مطابق ‘ملکہ میرے ساتھ ہمیشہ بہت اچھی طرح پیش آئی ہیں۔ مجھے ان کا ساتھ بہت پسند ہے۔۔۔ وہ اور شاہی خاندان کے دوسرے افراد میرے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔’لیکن اس کے باوجود وہ وہاں تنہا محسوس کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شاہی خاندان میں رہتے ہوئے ان کے لیے کچھ حدود تھیں۔ مکمل آزادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت سے کام نہیں کرسکتی تھیں۔میگھن کا کہنا تھا ‘شاہی خاندان میں ایک فرد نے مجھے کچھ عرصے کے لیے خاموش رہنے کا کہا۔۔۔ میں کئی مہینوں تک گھر سے نہیں نکلی تھی۔‘جب میگھن سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی ڈچس آف کیمبرج شہزادی کیٹ مڈلٹن سے نوک جھونک کی افواہوں میں کوئی صداقت ہے تو انھوں نے جواب میں اسے مسترد کیا۔وہ کہتی ہیں کہ اکثر ایک ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے کوئی ہیرو ہے اور کوئی ویلن۔ وہ کہتی ہیں کہ بطور ایک طلاق یافتہ خاتون جو شاہی جوڑے میں پہلی غیر سفید فام فرد تھیں، انھیں اس سب کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا گیا جیسے وہ اکیلی ہیں۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

گوگل کا خواتین کے عالمی دن پر منفرد خراج تحسین

Read Next

پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے