• جولائی 28, 2021

منفی کرداروں میں جوہر دکھانے کی گنجائش ہوتی ہے، اداکارہ ارمینا خان

کراچی: پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی مشہور اداکارہ ارمینا خان نے کہا ہے کہ منفی کردار کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ کچھ نیا کرنے کو ملے اچھی اور پیاری لڑکی کا کردار تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔

شوبز انڈسٹری میں بہت کم فنکارائیں ایسی ہوںگی جن کی عمدہ پرفارمنس سے ان کو ناصرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر شہرت ملی۔ ان میں اداکارہ ارمینا رانا خان کا نام بھی شامل ہے۔ 30 مارچ 1987ء کو ٹورنٹو میں جنم لینے والی اس فنکارہ نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کرنے کے بعد مانچسٹر سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کی۔

انہوں نے مانچسٹر سے ہی ماڈلنگ کا آغاز فیشن شو میں کیٹ واک سے کیا۔ ملکی اور بین الاقوامی فیشن میگزینز کے شوٹز اور ماڈلنگ نے شہرت میں اضافہ کیا۔ 2016ء میں ایشیا بھر کی 50 پرکشش خواتین میں ان کا نام بھی شامل تھا۔

2013ء میں بالی ووڈ فلم ’’اٹز ٹو مچ‘‘ سے فلمی کیریئر کا آغازکیا۔ قبل ازیں برطانوی انگریزی فلم ’’Unforgettable‘‘ میں مہمان اداکارہ کے طور پر جلوہ گر ہو چکی تھیں۔

عمدہ کردار نگاری پر ملکی سطح پر ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی متعدد ایوارڈز اور اعزازات پا چکی ہیں۔

ان کی دو بہنیں ہیں، وہ 2020ء کے دوران لندن میں فیصل نامی شخص سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو چکی ہیں۔

ارمینا خان: اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی اور بیرون ممالک کی پروڈکٹس کی ماڈلنگ نے مجھے شوبز انڈسٹری تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے شوبز انڈسٹری میں 2013ء میں انٹری کی، یہ غلط ہے۔ میرے فنی کیریئر کا آغاز دبئی سے ہوا۔ عالمی کمرشلز سے پاکستان میں بھی پہچان ملی۔ الیکٹرونک میڈیا پر دھوم مچی کہ یہ لڑکی کون ہے؟ جس کے بعد ہدایتکار عابس رضا اور انجم شہزاد نے مجھے پہلی بار 2011ء میں سٹکام سیریز کے لئے رابطہ کیا۔ اس سیٹ پر بھارتی لیجنڈ اداکارہ فریدہ جلال اہم کردارادا کر رہی تھیں، مگر وہ پاکستان آکر کام نہیں کر سکتی تھیں۔ جس کی وجہ سے تمام ریکارڈنگ دبئی میں ہوئی۔ اس سیٹکام پر میرے ساتھ لیجنڈ طلعت حسین، ایاز احمد، عائشہ گل، عامر قریشی، جاناں ملک اور فہد شیروانی ودیگر شامل تھے۔ یہ میری شوبز انڈسٹری میں انٹری تھی۔ ان فنکاروں کے ساتھ پہلی بار پرفارمنس کرکے بہت کچھ سیکھا جو آج تک کام آ رہا ہے۔

ارمینا خان: فلمی کیریئر کا آغاز بالی ووڈ سے فلم’’اِٹز ٹو مچ‘‘سے کیا تھا۔ پہلے میں ماڈل تھی اور اداکاری کو بطور پیشہ اپنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مجھے برطانیہ اور ایک ہمسایہ ملک کے اشتراک سے بننے والی اس فلم کیلئے پیشکش ہوئی، اس کے بعد ہی اداکاری میں دلچسپی لینے کافیصلہ کیا تھا۔ آڈیشن کے وقت بہت خوفزدہ تھی، انتخاب کے بعد تامل فلموں کے ہیرو پشکر جوگ کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ فلم 2013ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی جس کی عکسبندی لندن میں ہوئی تھی۔ ہالی ووڈ میں فلم ’’Writhe‘‘میں ’’سیریل کلر‘‘ کا کر رول ادا کر چکی تھی۔ اس فلم کی وجہ سے مجھے ’’کینز فلم فیسٹیول ‘‘ میں ریڈ کارپٹ واک میں شرکت کا اعزاز ملا۔ 2014ء میں دوسری بار مذکورہ فلم فیسٹیول میں شرکت کی۔ پہلی پاکستانی اداکارہ ہوں جو کینز فلم فیسٹیول میں فنکارہ کے طور پر شامل ہوئی۔ اس دوران ڈائریکٹر راحیل کے سوپ ’’ادھورے سپنے‘‘ کی آفر ہوئی تھی۔ ’’ادھورے سپنے‘‘ کے پہلے سپل کی ریکارڈنگ ممبئی میں مکمل کروائی تھی۔ اس وقت وہاں تین بھارتی فلموں میں مرکزی کردار ادا کر رہی تھی۔ ’’ادھورے سپنے‘‘ کی باقی ماندہ ریکارڈنگ کے لئے پاکستان آنا تھا۔

ارمینا خان: اگر وہ میرے انتخاب سے ناخوش تھے تو مجھے اکیلا چھوڑ دیتے، جہاں تک ٹیٹو بنوانے کی افواہوں کی بات ہے تو میں نے کوئی ٹیٹو نہیں بنوا رکھا ہے۔ میرے ڈریس پر یہ ڈیزائن بنا ہوا تھا۔ میں نے طنزاً کہا کہ ہاں میں ٹیٹوز سے بھری ہوئی ہوں اور اگلا ٹیٹو کھوپڑی پر بنوا رہی ہوں۔

ارمینا خان: پریانکا چوپڑا کی ٹیم سوشل میڈیا پر نشانہ بنا رہی تھی، میں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’ ٹیم پریانکا مجھ پر جعلی اکاؤنٹس سے حملہ کر رہی ہے‘‘۔ ایمانداری کی بات ہے کہ یہ بہت ہی کم ظرف لوگ ہیں۔ میں نے ایک اور ٹویٹ میں بھارتی شہریوں کی ان پر تنقید کے سکرین شارٹس بھی شیئر کیے۔ میں نے لکھا ’’یہ سکرین شارٹ میں عارضی طور پر تفریح کیلئے شیئر کر رہی ہوں۔ یہ سب کچھ مجھے صرف چند گھنٹوں میں موصول ہوا ہے جو کسی کیلئے بھی حیران کن ہو سکتا ہے ‘‘۔ بالی ووڈ اداکارہ اقوام متحدہ کے ادارے کی خیر سگالی سفیر ہیں۔ پاکستانیوں نے ان کے خلاف پٹیشن شروع کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پریانکا چوپڑا کو خیر سگالی سفیر کے عہدے سے ہٹایا جائے کیونکہ وہ متعصب ہندو ہیں۔ میں نے لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پریانکا کے ٹویٹ کا سکرین شارٹ لے کر رکھ لیں تاکہ جب بھی پریانکا امن اور خیر سگالی کی بات کریں تو انہیں ان کی منافقت دکھائی جا سکے۔ پہلے سوشل میڈیا پر منفی کمنٹس سے پریشان ہوتی تھی۔ دیگر اداکاراؤں کی طرح میں بھی سوشل میڈیا پر کافی متحرک نظر آتی تھی لیکن اپنے ڈراموں اور فیشن کی جگہ میری کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کا نام روشن کیا جائے۔

اس کی وجہ سے مجھے کبھی انڈین صارفین تو کبھی پاکستانی ٹرولز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن اب میں ان لوگوں کے کمنٹس کی وجہ سے اپنا موڈ خراب نہیں کرتی۔ شروع شروع میں جب میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا تھا تو مجھے بہت دکھ ہوتا تھا لیکن اب نہیں۔ گزشتہ دنوں کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ ارطغرل غازی میں کام کرنے والے اداکار کو ویلکم کرنے ایئرپورٹ جائیں جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ میں اپنا کام کرنے آئی ہوں اور وہ اپنا۔ اس بات پر لوگوں نے مجھے نہ جانے کیا کیا کہہ دیا۔ ان لوگوں نے بغیر یہ جانے کہ میں پاکستان کے لیے کہاں کہاں کھڑی ہوئی ہوں، ایسی ایسی باتیں کیں جن کا نہ تو مجھے اندازہ تھا اور نہ جن سے میرا کوئی تعلق۔ پاکستان کے لیے جو بھی کیا اپنے دل سے کیا، کسی کے کہنے پر نہیں کیا تو پھر پاکستان کے خلاف جانے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں بھی تو باہر سے آ کر کام کرتی ہوں، تو میں کسی اور ملک سے آئے ہوئے اداکار کے خلاف کیسے ہو سکتی ہوں۔

ارمینا خان: منفی کردار کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ کچھ نیا کرنے کو ملے اچھی اور پیاری لڑکی کا کردار تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ میں نے منفی کردار اس لیے چنا تاکہ لوگوں کی داد سمیٹ سکوں۔ اپنی طرف سے اس کردار میں میں جتنی برائی ڈال سکتی تھی، میں نے ڈال دی ہے۔ آگے دیکھنے والوں پر منحصر ہے کہ ان کو میری کارکردگی کیسی لگتی ہے۔

ارمینا خان: وہ ایک روایتی لڑکی کا نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کا ہے جو ہر قیمت پر خود کو اور صرف خود کو خوش دیکھنا چاہتی ہے۔ تارا کے کردار کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ ان کو کچھ نیا کرنے کو ملے۔ میرے خیال میں اداکار وہی ہے جو اصل میں جیسا دکھتا ہے ویسا سکرین پر نظر نہیں آتا اور اپنے ہر کردار سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر آگے بڑھتا ہے۔ پہلے کہتے ہیں یہ تو بس روتی رہتی ہیں، جب رلاتی ہوں تو برداشت نہیں ہوتا۔ محبتیں چاہتیں سے پہلے سکرین پر دیکھ کر لوگوں کو لگتا تھا کہ میں بہت معصوم، ملنسار اور اچھی طبیعت کی خاتون ہوں گی لیکن اگر میں سکرین پر بھی ویسی ہی نظر آتی رہتیں جیسا کہ میں اصل زندگی میں ہیں تو ایک وقت کے بعد لوگ بھی ان سے تنگ آ جاتے۔

ارمینا خان: مجھے کوئی کردار ہی ایسا آفر نہیں ہوا جس کے لیے میں انگلینڈ چھوڑ کر پاکستان آتی۔ پاکستان میں فلم سے بڑا میڈیم ٹی وی ہے جس سے دور رہنا اپنے مداحوں اور کیریئر دونوں کے ساتھ ناانصافی کرنے کے مترادف ہے۔ میری کوشش تھی کہ خواتین کے حقوق پر کوئی ڈرامہ کروں لیکن ہمارے ہاں ایسے سکرپٹس نہیں ملتے اور اگر ملتے ہیں تو اداکاراؤں میں مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے۔ پاکستان میں نہ ہونے کی وجہ سے میں اچھے کرداروں کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہوں۔ جب اس ڈرامے کا سکرپٹ آیا تو اس نے مجھے اپنی طرف کھینچا۔ یہ اس راستے پر تو نہیں تھا جس کی مجھے تلاش تھی لیکن دوسروں کے مقابلے میں الگ تھا۔ یہ میرا پہلا منفی کریکٹر تھا جس کی ایک نہیں بلکہ بہت ساری پرتیں تھیں۔ آپ اپنے کریکٹرز کے ذریعے اپنے بارے میں بھی بہت کچھ جانتے ہیں اور اس ڈرامے کے سیٹ پر بحیثیت اداکار اور انسان مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

ارمینا خان: ترک اداکاروں کے ساتھ شارٹ فلم ’’سنیپ شاٹ‘‘ حیران کن ہے۔ یہ ترکی کے شہر استنبول میں شوٹ ہوئی ہے۔ بہت عرصے سے میری خواہش تھی کہ ایسی کہانیاں سناؤں جو مجھے سنانے کو نہیں مل رہیں۔ اس فلم میں حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس کی کہانی لاک ڈاؤن کے گرد گھومتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ 19 سے لوگوں کے ذہنوں پر کیا اثر پڑا۔ فلم میں ایک لڑکا اور لڑکی ہونے کے باوجود اس فلم میں رومانس نام کی کوئی چیز نہیں، اس تجربے سے ہم یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ لڑکا لڑکی دوست بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسروں کے لیے جینے والے ہمیشہ خوش رہتے ہیں۔ ہم گزشتہ سال دسمبر میں فلم کی شوٹ پلان کر رہے تھے لیکن کورونا کی وجہ سے سب کچھ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ اس دوران ارطغرل غازی بھی پاکستان میں کافی مقبول ہو گیا اور ڈرامہ سیریل بھی رک گیا تھا۔ ہم اللہ کا نام لے کر ترکی گئے وہاں کے چند ایکٹرز کو کاسٹ کیا اور شوٹنگ مکمل کی۔

ارمینا خان:’’محبتیں چاہتیں‘‘کے علاوہ میرے پاس کوئی ایسی آفر نہیں جس میں اداکاری کا مارجن ہو، اس لیے جب ایک چیز سیدھی طرح سے نہیں آ رہی تو دوسری طرف سے جانا بہتر ہوتا ہے ، اسی وجہ سے میں نے انگلینڈ میں اپنا پروڈکشن ہاؤس سیٹ کرنا شروع کر دیا ہے ۔میری کوشش ہو گی کہ ایسے کردار ادا کروں جو دل کو اچھے لگیں ۔ میں نئے ٹیلنٹ کو متعارف کروانے کے بارے میں سوچ رہی ہوں تاکہ پاکستان میں جو اتنا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے ، اسے کوئی راستہ مل سکے ۔

ارمینا خان:یہ سب روح کی تسکین کے لیے کرتی ہوں۔اپنے لیے تو سب جیتے ہیں دوسروں کے لیے بہت کم جیتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر آپ دنیا میں کوئی اچھا کا م کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس ثواب اسی دنیا میں دیتا ہے میں جس سوسائٹی میں رہتی ہیں وہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ کووڈ ۔19کی وجہ سے ہمیں مذہب کی تفریق کیے بغیر سب کی مدد کرنا چاہیے۔ میرے شوہر فیصل رضا خان کا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے ہے اور عملی سیاست میں بھی ان کا عمل دخل ہے۔ ہم دونوں سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس ایک موقع ہے کسی کی مدد کرنے کے لیے تو ہمیں اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے ، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ کورونا جیسی مہلک بیماری کے دنوں میں بھی ہم دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہیں۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

غیر ملکی ٹیمیں ٹوکیو اولمپک میں شرکت کے لئے جاپان پہنچنا شروع

Read Next

کراچی سمیت صوبے بھر میں نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کا آغاز

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے