• اپریل 18, 2021

ماسکو کانفرنس: دوستم کا فوجی یونیفارم اور غیرحاضر بھارت

ماسکو میں افغانستان امن کے لیے طلب کی گئی امن کانفرنس بغیر کسی بڑی پیش رفت کے ختم ہوئی لیکن فریقین کا آمنے سامنے آنا ہی بڑی بات تھی۔

سال 2018 کی ماسکو کانفرس کے بعد یہ ماسکو میں ہونے والی دوسری بڑی کانفرس تھی جس میں امریکہ، طالبان، افغان حکومت، چین، پاکستان اور قطر شرکت کر رہے ہیں۔ پچھلی کانفرنس میں بھارت کے دو سابق سفارت کاروں نے غیرسرکاری سطح پرشرکت کی تھی تاہم اس اجلاس میں بھارت کو مدعو نہیں کیا گیا۔

بھارت کو افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے اور اچھے تعلقات رکھنے کے باوجود امن عمل سے مکمل دور رکھا گیا ہے جوکہ معنی خیز مانا جا رہا ہے۔

پچھلی بار ماسکو میں امریکی سفارت خانے میں تعینات چیف پولیٹیکل افسر نے بطور مبصر شرکت کی تھی تاہم اس بار افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد موجود تھے۔

طالبان کا وفد جس کی سربراہی ملا عبد الغنی برادر کر رہے تھے، میں شیخ عبدالحکیم، مولوی عبدالسلام حنفی، شیخ دلاور، ملا محمد فاضل اخوند، شیرمحمد عباس ستانکزئی، سہیل شاہین، انس حقانی، ملا خیراللہ خیرخواه اور ڈاکٹر نعیم وردگ شامل تھے۔

ماسکو کانفرس کی اہم بات یہ ہے کہ پہلی بار مارشل جنرل عبدالرشید دوستم اور انجینیئر گلبدین حکمت یار طالبان سے براہ راست بات چیت کے لیے آمنے سامنے بیٹھے۔

سوشل میڈیا پر ملا فاضل اور عبد الرشید دوستم کے آمنے سامنے ہونے کو خاصی پذیرائی ملی کیوں کہ عبدالرشید دوستم نے ملا فاضل کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔

اکثر فوجی لباس میں ملبوس عبدالرشید دوستم کانفرس کے لیے بھی اسی طرح آئے تاہم طالبان کی جانب سے ان کے فوجی لباس میں شرکت پر اعتراض کیا گیا۔ اس اعتراض کے بعد کانفرنس انتظامیہ کی جانب سے انہیں سادہ لباس میں شرکت کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس شروع ہونے سے قبل دلچسپ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب عبدالرشید دوستم نے ملا فاضل اخوند کے پاس جا کر ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: ’ملا فاضلہ سنگہ یی؟ (ملا فاضل کیسے ہو ؟)‘ ملا فاضل نے ان کا ہاتھ ہٹا کر کہا کہ ’میں ایک قاتل سے ہاتھ نہیں ملاتا۔‘

مقدماتی نشست میں سادہ لباس میں شرکت کے بعد کی نشست، جس میں فریقین کی جانب سے تبادلہ خیال کیا جانا تھا، دوستم غیر حاضر رہے جب کہ جمعے کے اجلاس میں بھی انہوں نے خود شرکت نہیں کی۔

اجلاس شروع ہونے سے قبل سابق افغان صدر حامد کرزئی اور گلبدین حکمت یار سرگوشیاں کرتے دکھائے دیئے۔ کانفرس ہال میں طالبان کی آمد کے ساتھ حامد کرزئی نے اٹھ کر شیر محمد عباس ستانکزئی سے مصافحہ کیا۔

کانفرس میں افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ایک ہمسایہ ہونے کے ناطے افغانستان کے لیے ہمارا پیغام بلند اور واضح ہے۔ ہم افغانستان میں استحکام اور امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور ایک پرامن افغانستان کی امید کرتے ہیں۔‘

افغان مذاکراتی وفد کی رکن حبیبہ سرابی واحد خاتون تھیں جو دوسری نشست میں بطور ممبر شریک تھیں۔ حبیبہ سرابی نے موقع کی مناسبت سے کہا: ’اس ہال میں، میں اکیلی خاتون کیوں ہوں؟ خواتین اس جنگ کا حصہ نہیں رہی ہیں؟

پہلے روز کانفرس ہال میں طالبان کے سیاسی نائب ملا عبدالغنی برادر اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار پہلی دفعہ آمنے سامنے ایک میز پر بیٹھے۔ دوسرے روز بھی کانفرنس شروع ہونے سے قبل دونوں فریقین کے مابین باقاعدہ ایک نشست ہوئی جس میں بین الافغان مذاکرات اور یکم مئی تک بیرونی افواج کے انخلا کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

گلبدین حکمت یار، طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ معاہدے کے مطابق یکم مئی تک انخلا کو یقینی بنائے اور افغان اپنے مسائل خود حل کریں گے۔‘

جمعرات کو ماسکو میں ہونے والی امن کانفرنس میں امریکہ، روس، چین اور پاکستان نے مشترکہ بیان میں تمام فریقین سے تشدد میں کمی لانے کا مطالبہ کیا جب کہ طالبان سے کہا گیا ہے کہ وہ موسمِ بہار کے آغاز پر ہر سال شروع کی جانے والی اپنی کارروائیوں کو ترک کر دیں۔

روس، چین، پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ امارت اسلامیہ (طالبان اپنی حکومت کو یہ نام دیتے ہیں) کا اعادہ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

اس کا جواب اجلاس کے دوسرے دن کے اختتام پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے طالبان کی مذاکراتی ٹیم اور سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر نعیم وردگ نے دیا کہ ’افغان قوم مل کر نظام کی ساخت کا انتخاب کرے گی۔ اجنبی کو ہم اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے نظام کا انتخاب کریں۔‘

ماسکو میں ہونے والی امن کانفرنس دوسرے روز بھی جاری رہی تاہم اس دن اس میں صرف افغان فریق شریک رہے۔ کانفرنس کو دوسرے دن بھی جاری رکھنے کا مطالبہ افغان گروہوں کی جانب سے کیا گیا تھا جس پر کانفرنس میں شریک دوسرے ممالک کے نمائندوں نے رضامندی ظاہر کی۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق یکم مئی تک تمام بیرونی افواج افغانستان سے انخلا کریں گی جب کہ طالبان غیر ملکی افواج پر حملے نہیں کریں گے اور القاعدہ سمیت دوسری شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلق نہیں رکھیں گے۔

طالبان اور امریکہ دونوں فریقین اب تک اس معاہدے پر سنجیدہ اور عمل درآمد کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اگر چہ امریکہ کی جانب سے طالبان پر القاعدہ کے ساتھ تعلقات رکھنے اور طالبان کی جانب سے امریکہ پر حملوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

جمعرات کو امن کانفرنس میں بھی طالبان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ حملوں کی صورت میں امن معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے، تاہم ان الزامات کے باوجود معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے دونوں فریق سنجیدہ ہیں۔

یکم مئی تک کے ایام افغانستان اور خطے کی سیاسی صورت حال کے لیے نہایت اہم ہیں کیوں کہ اس کم ترین عرصے میں افغانستان میں ایک عبوری حکومت یا ایک ایسے نظام کی تشکیل ناممکن ہے جس میں طالبان، حکومت اور افغانستان کی دوسری سیاسی جماعتیں شامل ہوں۔ اس صورت حال کو دیکھا جائے تو ماسکو کانفرنس کا بنیادی مقصد طالبان پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

مسلم لیگ ن کے رہنما کیخلاف بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج

Read Next

رمضان سے پہلے ہی ٹماٹر کی قیمت کو پر لگ گئے، آلو پیاز بھی مہنگا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے