• دسمبر 5, 2021

لیگی رہنماؤں نے پھر عدلیہ پر تنقید کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نوٹس لے: فواد چودھری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ لیگی رہنماؤں نے پھر عدلیہ پر تنقید کی، اسلام آباد ہائیکورٹ خواجہ آصف اور شاہد خاقان کی گفتگو کا نوٹس لے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ عدلیہ پر حملہ کرنا، ججوں پر الزامات لگانا، ویڈیوز بنانا ن لیگ کی تاریخ رہی ہے، چیف جسٹس کے سوموٹو نوٹس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے الزامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کتنا مضحکہ خیز شگوفہ ہے چیف جسٹس آف پاکستان میرے پاس آئے، ہم چائے پی رہے تھے، اچانک چیف جسٹس کو خیال آیا انہوں نے فون اٹھایا کہ فلاں جج کو فون کردیں۔ بدقسمتی سے کسی جج کا نام لے کر اخبار نے اتنی بڑی ہیڈ لائن لگا کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

وزیر اطلاعات نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سوموٹو کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے سوموٹو نوٹس لینے کے بعد پریس کانفرنس کی اور پھر عدالتوں کو سکینڈل بنانے کی کوشش کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کو ان دونوں حضرات کو بھی اپنے سوموٹو نوٹس میں بلانا چاہئے، جب جج صاحبان نے نوٹس لے لیا تھا تو ان کا کام نہیں بنتا کہ وہ اس پر پریس کانفرنس کرتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی ملاقات ہوئی ہے، جی ڈی اے، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی سمیت تمام اتحادی جماعتوں کی قیادت ملاقات میں موجود تھی۔ اتحادیوں کے اعتراضات تفصیل سے سنے اور انہیں دور کیا گیا۔ تمام اتحادیوں نے وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کو دن دو بجے طلب کیا جائے گا، الیکٹورل ریفارمز کے بل اجلاس میں پیش کئے جائیں گے، تمام اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

مقبوضہ کشمیر: قابض بھارتی فوج نے دو اور کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا

Read Next

فرانسیسی صدر نے خاموشی سے اپنے قومی پرچم میں تبدیلی کی:روسی میڈیا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے