• مئی 26, 2022

ق لیگ کو وزارت عظمیٰ دینے کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی متفق ہو گئیں

لاہور  وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے اپوزیشن میں مشاورتی عمل جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں پیپلز پارٹی کو پیشکش کی کہ وہ خورشید شاہ کو وزیراعظم بنا دیں جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو وزیراعظم کے عہدے کی پیشکش کی ہے، اس طرح دونوں جماعتیں وزیراعظم کا عہدہ محدود مدت کے لیے لینے کو تیار نہیں ہیں جس کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے رضامندی ظاہر کی کہ اگر مسلم لیگ ق اپوزیشن کی حمایت میں ساتھ کھڑی ہے تو مسلم لیگ ق کو وزیراعظم کا عہدہ دے دیا جائے۔ذرائع کے مطابق ق لیگ کی طرف سے اپوزیشن کو فی الحال حمایت نہیں مل رہی تاہم بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

اجلاس میں سیاسی صورتحال اور عدم اعتماد سے متعلق مشاورت اور لائحہ عمل بنایا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فیصلہ ہوا ہےکہ سلیکٹڈ حکمران کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی،پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے اتفاق کیا کہ ہم تحریک عدم اعتماد لائیں گے، سیاست میں بڑے فیصلوں کیلئے دل بھی بڑا کرنا پڑتا ہے، حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے کریں گے، حکومت کی اتحادی جماعتوں کے بغیر تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جاسکتی، حکومتی اتحادی جماعتوں سے درخواست کریں گے کہ وہ اتحاد ختم کریں۔انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے ہوم ورک مکمل کریں گے، عدم اعتماد لانے کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے، حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطوں کیلئے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، فضل الرحمان نے کہا کہ اب حالات بدل گئے ہیں، حالات کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

Read Previous

‘اپوزیشن جو مرضی کر لے، حکومت کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی’

Read Next

پگڑی پہن سکتے ہیں تو حجاب کیوں نہیں؟ سونم کپور کے سوال پر انتہا پسند مشتعل

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔