• جنوری 21, 2022

قومی اسمبلی اجلاس: اپوزیشن ناکام، منی بجٹ اور سٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی، منی بجٹ اور سٹیٹ بینک ترمیمی بل 2022ء کو منظور کر لیا گیا، حزب اختلاف کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں، زبانی رائے شماری پر اعتراضات نظر انداز ہونے پر ارکان پلے کارڈ لیکر کھڑے ہوگئے۔ اسی دوران ہنگامہ بھی ہوا جبکہ حزب اختلاف نے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا۔ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، حکومتی ارکان نے وزیراعظم عمران خان کو حصار میں لے لیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160ارکان ہیں، اپوزیشن کے 12 اور حکومت کے 12 ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے۔ حکومت کو ایوان پر 18 ارکان کی برتری حاصل رہی۔

 اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

منی بجٹ میں ترامیم

دریں اثنا مجوزہ بل میں حکومت کی ترامیم کو ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کرلیا۔

حکومت نے بل کی شق 3 میں تبدیلیاں کی ہیں جس کے تحت چھوٹی دکانوں پر روٹی، چپاتیاں، شیرمال، نان، ورمیسیلی، بن اور پاپوں پر ٹیکس نہیں لگے گا، پہلی سطح کے ریٹیلر ٹیئر ون ریٹیلرز، ریستورنٹ، فوڈ چینز اور مٹھائی کی دکانوں پر ان اشیا کی فروخت پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

1800 سی سی گھریلو اور ہائبرڈ اور گھریلو کاروں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، 1801 سے 2500 سی سی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا جبکہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

دودھ کے 200 گرام کارٹن پر کوئی جنرل سیلز ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جبکہ 500 روپے سے زائد کے فارمولا دودھ پر 17 فیصد جی ایس ٹی عائد کیا جائے گا۔

ترامیم کے تحت درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے، تمام درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی یکساں رہے گی۔

مقامی طور پر تیار کی جانے والی 1300 سی سی گاڑیوں پر 2.5 فیصد ڈیوٹی ہوگی جو پہلے تجویز کردہ 5 فیصد سے کم ہے، مقامی طور پر تیار کی جانے والی 1300 سے 2000 سی سی کاروں پر ڈیوٹی بھی 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی۔

2,100 سی سی سے زیادہ مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروں پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس میں فنانس سپلیمنٹری بل(منی بجٹ) کو منظور کر لیا گیا۔

سٹیٹ بینک ترمیمی بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش

مالیاتی بل کی منظوری کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کردیا۔

سپیکر صاحب ہاتھ جوڑتا ہوں یہ بل منظور نہ ہونے دیں، احسن اقبال

بل پیش ہوتے ہی احسن اقبال نے کہا کہ اسپیکر صاحب! سٹیٹ بینک بل کی منظوری سے ملکی خودمختاری داؤ پر لگانے والوں میں آپ کا نام بھی لیا جائے گا، پاکستان کے عوام کی نظریں آپ پر ہیں، میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں کہ اس بل کو منظور نہ ہونے دیں، ہم سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔

ہم ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے جارہے ہیں، نوید قمر

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ اگر سٹیٹ بینک ترمیمی بل ملک کے مفاد میں ہے تو اسے رات کی تاریکی میں کیوں منظور کیا جارہا ہے؟ ہم اپنا معیشت کا پورا نظام تبدیل کرنے جارہے ہیں اور ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک ابھی سال میں چار مرتبہ رپورٹ دیتا ہے لیکن اس بل کی منظوری کے بعد سٹیٹ بینک سے پالیسی پر کوئی سوال نہیں کیا جا سکے گا جب کہ ہم ہنگامی صورتحال میں سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکیں گے، اس طرح حکومت کا کردار مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے، گورنر کا اختیار اور تنخواہ پاکستان کے حساب سے ہونی چاہیے۔

سٹیٹ بینک پارلیمنٹ و عدلیہ کو نہیں بیرونی اداروں کو جواب دہ ہوگا، بلاول

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سٹیٹ بینک ہماری پارلیمنٹ اور عدلیہ کو نہیں بیرونی اداروں کو جواب دہ ہوگا اور دشمن کو اس صورتحال کا فائدہ ہوگا، ہمارا ایٹمی پروگرام کل بھی ان کے نشانے پر تھا آج بھی ان کے نشانے پر ہے۔

اداروں کو خودمختار کرنا پی ٹی آئی کا منشور تھا، شوکت ترین

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اداروں کو خودمختار کرنا پی ٹی آئی کا منشور تھا، سٹیٹ بینک بورڈ آف گورنرز کے ذریعے چلایا جائے گا، حکومت کے پاس سٹیٹ بینک چلانے کی پوری اتھارٹی ہوگی، پچھلی حکومتوں نے ساڑھے سات ٹریلین کے نوٹ چھاپے لیکن آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہم نے اڑھائی سال سے سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیا، ہم سٹیٹ بینک کو خودمختاری دینا چاہتے ہیں، سٹیٹ بینک کو جو بورڈ آف گورنرز چلائے گا اس کی تعیناتی ہم کریں گے۔

اپوزیشن کے شور شرابے میں سٹیٹ بینک بل 2022ء بھی منظور

بعدازاں اپوزیشن کی تحریک کثرت رائے سے مسترد ہوگئی اور سٹیٹ بینک بل 2022ء منظور کرلیا گیا۔ اپوزیشن نے ایک بار پھر ووٹنگ کو چیلنج کیا مگر ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ پر گنتی کروانے سے انکار کردیا جس پر اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا اور اپوزیشن ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور نعرے بازی کی جب کہ حکومتی ارکان وزیراعظم کی نشست کے قریب جمع ہوگئے۔

اپوزیشن کے شور میں بھی بل کی شق وار منظوری جاری رہی۔ اسی شور میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل ، اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر مینجمنٹ اتھارٹی بل 2021، اوگرا ترمیمی بل 2021 ایوان میں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

عوام پر 350 ارب کا بوجھ ڈالا جائے گا: شاہد خاقان عباسی

اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی، کیا ریونیومیں کمی یا اخراجات بڑھ گئے ہیں، عوام پر 350ارب کا بوجھ ڈالاجائے گا۔ ہرماہ پٹرول اوربجلی مہنگی کی جارہی ہے۔

یہ ٹیکس نہیں، معیشت کی ڈاکومینٹیشن ہے: شوکت ترین

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گے تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شک دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے: محسن داوڑ

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

احسن اقبال

احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔

احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال نے کہا کہ 6ماہ قبل وزیر خزانہ نے ایوان میں کہا تھا کہ ہم نے ملکی معیشت کو بچا لیا ہے۔ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا، پیٹرول مہنگا کر کے انہوں نے گاڑی والے کو موٹرسائیکل پر منتقل کر دیا، حکومت نے طبی آلات پر بھی ڈیوٹی لگا دی، وزیرخزانہ کہہ رہےتھے یہ بل ناگزیرتھا۔

سٹیٹ بینک بل کی منظوری کے دوران احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر صاحب اگر سٹیٹ بنک بل کی منظوری سے ملکی خودمختاری داؤ پر لگانے والوں میں لیا جائیگا، عوام کی نظریں سپیکر صاحب آپ پر ہیں، میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں اس بل کو منظور نہ ہونے دیں، سٹیٹ بنک کی خودمختاری کا سودا نہیں ہونے دینگے۔

بلاول حکومت اور وزیر خزانہ پر برہم

 پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے جو ترمیم متعارف کرائی ہے اس میں خام تیل اور درآمدی اشیا پر متعلقہ ٹیکس لگا دیا گیا ہے، میرا وزیر خزانہ سے سوال ہے کہ کیا انہوں نے یہ بات مان لی ہے؟ انہوں نے خود کہا کہ وہ کچھ ٹیکس واپس لے رہے ہیں۔”

بلاول نے کہا کہ شوکت ترین کہتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے معاملات کو مزید خراب کیا حالانکہ وہ پہلے ملک کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ شوکت ترین نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ منی بجٹ پر شور و غل کیوں ہے، ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کراچی کی سڑکوں پر جائیں اور لوگوں سے ان کی معاشی صورتحال کے بارے میں پوچھیں۔

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ کراچی کے کچھ اراکین اسمبلی نے ترامیم پیش کیں اور منی بجٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا، انہوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ فنانس بل کو مسترد کریں اور ملک کو معاشی صورتحال سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کا ساتھ دیں۔

بلاول کے خطاب کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت ملک کی معاشی خودمختاری اور قومی سلامتی کو قربان کر رہی ہے حالانکہ وہ تقریباً 13 بار آئی ایم ایف کے پاس گئے، تو کیا انہوں نے ہر بار ہماری معاشی خودمختاری کو ختم کیا؟۔

اس بات پر بلاول بھٹو نے ایک بار پھر وفاقی وزیر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جو وعدے کیے تھے ان سے پیچھے نہیں ہٹے، لیکن نہ وزیر خزانہ اور نہ ہی وزیر اعظم اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں، تین سال سے زائد ہو چکے ہیں اور اگلا سال الیکشن کا ہے، یہ وقت تو الیکشن سے قبل عوام کو اپنی کامیابیاں دھکانے کا تھا۔

انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ آپ کی کامیابی کیا ہے؟ دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک ہے، خطے میں سب سے مہنگا ہے، مہنگائی دوہرے ہندسوں تک پہنچ گئی ہے اور قرض اور جی ڈی پی کا تناسب بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ وہ کچھ ہے جو نیا پاکستان نے ہمیں دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا سٹیٹ بینک کے بل سے متعلق کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک بل پرتفصیلی بحث کرائی جائے، سٹیٹ بینک پارلیمنٹ کوجوابدہ نہیں ہوگا، ان کی پالیسی سے ملک میں انارکی کی صورتحال کا خطرہ ہے، سٹیٹ بینک بل کے مطابق دفاع کے اخراجات ایک بینک سے کیے جائیں گے، سٹیٹ بینک غلامی بل کو معاشی خودمختاری پر ڈاکہ قراردیتے ہیں، ہماری سیکیورٹی کے لیے بھی یہ بل خطرہ ہوگا۔

نوید قمر

پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ پرانا نظام ہی رہنے دیتے تو بہتر تھا، ہم جانتے ہیں کہ آپ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس قسم کی درآمدات خام مال اس پر اثر ڈالے گا لہٰذا حکومت اس سے دستبردار ہونے پر نظرثانی کرے۔

سٹیٹ بینک کے بل سے متعلق نوید قمر کا کہنا تھا کہ اگر مرکزی بنک ترمیمی بل ملک کے مفاد میں ہے تو اسے رات کی تاریکی میں کیوں منظور کیا جارہا ہے، ہم اپنا معیشت کا پورا نظام تبدیل کرنے جارہے ہیں، سٹیٹ بنک ابھی سال میں چار مرتبہ رپورٹ دیتا ہے، اس بل کی منظوری کے بعد سٹیٹ بنک سے پالیسی پر کوئی سوال نہیں کیا جا سکے گا، اس بل کی منظوری سے ہم قومی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے جارہے ہیں ، ہم ہنگامی صورتحال میں سٹیٹ بنک سے قرض نہیں لے سکیں گے، اس طرح حکومت کا کردار مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے، گورنر سٹیٹ بنک کا اختیار اور تنخواہ پاکستان کے حساب سے ہونی چاہیے۔

رانا تنویر

اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ اپنے محکموں سے چوری اور سرحدوں پر ہونے والی کرپشن ختم کردیں تو اتنا ریونیو اکٹھا ہو گا کہ پچھلے ٹیکس ختم کرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر آپ ادھر توجہ دیتے تو منی بجٹ کی قیادت ڈھانے کی ضرورت نہ پڑتی۔

ایاز صادق کا اعتراض، پرویز خٹک کا جواب

سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، اس کے جواب میں ایاز صادق نے ریکارڈ نکالنے کا مشورہ دیا۔

اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا شکست خوردہ لشکر یہاں نظر آرہا ہے، وزیراعظم کو ضمنی مالیاتی بل کی منظوری پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

ملک میں کورونا کا پھیلاؤ تیز، 24 گھنٹوں میں مثبت کیسز کی شرح 7.36 فیصد ریکارڈ

Read Next

مشترکہ مفادات کونسل نے 7 ویں مردم شماری کی منظوری دے دی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے