• مئی 24, 2022

قندیل بلوچ کیس:ریاست قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے،ملیکہ بخاری

پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکہ بخاری کا کہنا ہے کہ ریاست سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کے قتل کیس میں قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکہ بخاری نے کہا ہے کہ ریاست قندیل بلوچ کے قتل کیس میں قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ قانون میں خواتین کے قاتلوں کی سزا کو یقینی بنانے کیلئے ترمیم کی گئی ہیں، چاہے قائل کوئی عام آدمی ہو یا کوئی با اثر اور مشہور شخصیت ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے غیرت کے نام پر خواتین اور بچیوں کے قتل کو معاشرے پر سیاہ دھبہ بھی قرار دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے قندیل بلوچ کے قتل کیس میں نامزد مقتولہ کے بھائی اور کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو بری کیا تھا۔ ملتان بینچ کے جسٹس سہیل ناصر نے مقتولہ کے قتل کے کیس میں راضی نامے کی بنیاد اور گواہوں کے اپنے بیانات سے منحرف ہونے پر مرکزی ملزم وسیم کو بری کیا تھا۔

قندیل بلوچ کو قتل کرنے کے جرم میں ملزم وسیم کو 27 ستمبر 2019 کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ قندیل بلوچ قتل کیس میں وسیم کی جانب سے ایڈووکیٹ سردار محبوب نے ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے سامنے ملزم کی بریت سے متعلق دلائل پیش کیے تھے۔

مقتولہ قندیل بلوچ کے والد کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم نے اللہ کی رضا کی خاطر اپنے بیٹوں کو معاف کر دیا ہے، لہٰذا عدالت بھی اسے معاف کردے۔

قتل کیس کا پس منظر

قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے 15 جولائی 2016 کو غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا۔ پولیس کے مطابق قندیل بلوچ کا بھائی ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کی وجہ سے ناراض تھا، جس پر وہ انہیں غیرت کے نام پر قتل کرکے فرار ہوگیا تھا۔ قتل کی واردات پر پولیس کی جانب سے تفتیش کا آغاز ہوا تو تحقیقات کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل کیس کی ایف آئی آر ان کے قتل کے ایک روز بعد درج کرائی گئی تھی۔ قندیل بلوچ کے قتل کیس میں ان کے بھائی محمد وسیم اور اسلم شاہین سمیت مفتی عبدالقوی، عبدالباسط اور حق نواز کے خلاف عدالت میں سماعتیں ہوئیں۔

قتل کیس کے تمام ملزمان ضمانت پر تھے، تاہم مرکزی ملزم اور قندیل بلوچ کا بھائی محمد وسیم جیل میں رہا اور عدالت نے اس کی ضمانت مسترد کردی تھی۔ قندیل بلوچ کے قتل کیس کا معاملہ گزشتہ ساڑھے 3 سال سے عدالتوں میں زیر سماعت تھا اور ابتدائی طور پر اس کیس کی سماعتیں علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوئی تھیں۔

بعد ازاں کیس کو ماڈل کورٹ منتقل کیا گیا تھا، جہاں پر یومیہ بنیادوں پر کیس کی سماعتیں کی گئیں۔ اسی کورٹ میں قندیل بلوچ کے والدین نے اپنے بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست بھی دائر کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

عدالت کے مطابق قندیل بلوچ کے بھائیوں کو معاف کرنے سے قتل کیس میں نامزد دیگر ملزمان پر بھی فرق پڑ سکتا تھا، اس وجہ سے عدالت نے والدین کی درخواست مسترد کردی تھی

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

روس نے جوہری میزائلوں کے تجربات کا آغاز کر دیا

Read Next

راحت فتح علی خان دبئی پہنچتے ہی مشکل کا شکار ہوگئے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے