• جولائی 30, 2021

فنکار صرف تعریف سن کر زندہ نہیں رہ سکتا، اداکارہ مدیحہ امام

کراچی: پاکستانی اداکارہ مدیحہ امام نے کہا ہے کہ میرے فینز میری پرفارمنس ہی کو نہیں سراہیں بلکہ کام اچھا نہ ہو تو ضرور تنقید بھی کریں۔ فنکار صرف تعریف سے زندہ نہیں رہ سکتا۔ کام اچھا اور برا ہو سکتا ہے۔ تنقید برائے اصلاح سے میرا حوصلہ بڑھے گا۔

8 فروری 1991ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی مدیحہ امام نے اپنے شوبز کیریئر کا آغاز اپنی جنم بھومی سے کیا۔ بطور وی جے، اداکارہ اور میزبان اپنی ایک پہچان بنائی۔

انھیں میوزک سے بے حد لگاؤ ہے، ان کا کہنا ہے کہ میرے کان مشرقی اور مغربی میوزک کے منتظر رہتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ کیریئر کے آغاز میں ہی کامیابی اور شہرت مل گئی

2011ء میں انہوں نے ابتدا بطور وی جے کی اور مختلف چینلز پر میزبانی کے فرائض بھی سرانجام دیئے، کچھ عرصے میں ماڈلنگ انڈسٹری کی جانب سے مدیحہ کو آفرز آنا شروع ہو گئیں۔ ان آفرز کو مدیحہ نے قبول کرتے ہوئے ماڈلنگ کا آغاز کیا اور فوٹو شوٹس بھی کروائے اورفیشن ویکس میں ریمپ واک میں بھی شرکت کی۔

آگے بڑھنے کی لگن میں اداکاری کے شعبے میں بھی آنے کی ٹھان لی۔ پہلا ڈرامہ ’’عشق میں تیرے ‘‘ 2013ء میں آن ایئر ہوا، جس میں انہوں نے معاون اداکارہ کا کردار ادا کیا۔ اپنی بیساختہ اور معصومانہ اداکاری کی بدولت انہیں یکے بعد دیگرے مختلف سیریل میں دیکھا جانے لگا۔

تاہم اب باری مرکزی کردار نبھانے کی تھی۔ انہیں ہدایتکار علی فیضان کے ڈرامے ’’دھانی‘‘ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

ڈرامے کے منتظمین کو مرکزی کردار کے لیے ایک شوخ اور زندگی کی خوبصورتیوں سے محبت کرنے والی لڑکی کی تلاش تھی، جس پر وہ پوری اتریں۔

اس کے بعد ان پر بالی ووڈ کے دروازے کھل گئے اور ’’ڈیئر مایا‘‘ میں منیشا کوئرالہ کے ہمراہ کردار مل گیا۔

ان کے قابل ذکر ڈراموں میں خلش، عشق میں تیرے، ہیر، نظر کے سامنے، سانپ سیڑھی، زویا صالحہ، بابا جانی، زخم، میرا رب وارث، دکھاوا، دشمن جہاں، سفر تمام ہوا، عشق جلیبی کے علاوہ ویب سیریز ایک جھوٹی لو سٹوی، ٹیلی فلم سلمیٰ کا بلما دیگر پروگرامز بطور میزبان اور وی جے کئے۔

گزشتہ دنوں ان سے ایک ملاقات ہوئی ،جس کی تفصیلات قارئین نذر ہے۔

مدیحہ امام: میرے خیال میں فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے ہی ایک فنکار منفرد شناحت بنا سکتا ہے۔ جدید دور میں فنکار کی خداداد صلاحیتیں ہی اس کے لئے کامیابی کا دروازہ کھولتی ہیں۔ میرا کام ہی ہدایتکار علی فیضان کو اچھا لگا تو انہوں نے مجھے مرکزی چانس دلوایا۔ میں نے ان کو مایوس نہیں کیا۔ مرکزی کردار میری ترجیحات میں شامل تھے۔ اپنے کردار اور سکرپٹ کو بھی مدنظر رکھا۔

مدیحہ امام: میرے اندر کی فنکارہ اور خود اعتمادی کی بنا پر خداد صلاحیتوں نے بالی وڈ کے دروازے کھول دیئے۔ اس فلم کے لیے ڈائریکٹر سنینا بھٹناگر کو ایک کم عمر لڑکی کی تلاش تھی، اسی دوران سنینا بھٹناگر نے میری ایک ویڈیو دیکھی جس کے بعد انہوں نے 2015ء میں مجھ سے رابطہ کیا، پہلے پہل مجھے لگا کوئی میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے تاہم بعد ازاں میں نے فلم سائن کرلی کیونکہ میں ہمیشہ سے ایسی فلم کرنا چاہتی تھی۔ اس سے مجھے کافی پذیرائی ملی۔

مدیحہ امام: عریانی کسی فنکار کے لیے وقتی شہرت کا باعث ضرور بنتی ہے لیکن مستقبل میں زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ اگر میرے ساتھ ایسا ہوتا تو شاید میں اس فلم میں کبھی کام نہ کرتی۔

مدیحہ امام: ڈرامہ ’’میرا رب وارث‘‘ میں ’’عائشہ‘‘ نامی ایک مذہبی لڑکی کا کردار اپنی جانب سے خوبصورتی سے نبھایا تھا۔ میرے لیے ایک مذہبی لڑکی کا کردار نبھانا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ دانش تیمور اور میری پرفارمنس کو پسند کیا گیا۔ اس نوعیت کے کردار ادا کرتے ہوئے ماحول بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے مذہب سے لگاؤ رکھنے والی لڑکی کا کرداراد ا کرکے جو دلی سکون ملا اس احساس کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔

مدیحہ امام: شہرت اور دولت کمانے کے لئے ہر لڑکی خواہش کرتی ہے۔ کامیابی اور چانس کسی کسی کے نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے، ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا، میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ کیریئر کے آغاز پر ہی کامیابی اور شہرت مل گئی۔

مدیحہ امام: ذاتی طور پر خود پر کسی خاص کردار کی چھاپ نہیں لگوانا چاہتی بلکہ ایک ورسٹائل فنکارہ کی حیثیت سے کام کرنا چاہتی ہوں۔ ایک دہائی سے شوبز انڈسٹری میں کام کر رہی ہوں جبکہ تین چار برس سے ڈراموں میں اداکاری کرکے اپنے ٹیلنٹ کو منوانے کیلئے کوشاں رہی ہوں، میں ہر کردار کو چیلنج سمجھ کر کرتی ہوں۔

مدیحہ امام: ابھی تک تو نہیں کیا البتہ بہت جلد فلم میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آؤں گی۔ کورونا کی وجہ سے یہ پاکستانی فلم رک گئی ہے۔

مدیحہ امام: مجھے میوزک سے بے حد لگاؤ ہے۔ ہر فنکار سر اور سنگیت سے لگاؤ رکھتا ہے، میری بھی سماعتیں اکثر مشرقی اور مغربی میوزک کی منتظر رہتی ہیں۔

مدیحہ امام: سینئر اور جونیئر فنکاروں کا رویہ بہت اچھا رہتا ہے۔ ہم سب ایک فیملی کی طرح کام کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سینئر اداکار فیصل قریشی کے ساتھ ’’مقدر‘‘ سیریل میں کام کیا، انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں بہت سی فنی باریکیوں سے بھی آگاہ کیا۔ سینئر جس طرح ہم جونیئرز کاخیال رکھتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہم سیٹ پر نہیں اپنے گھر میں کام کر رہے ہیں۔

مدیحہ امام: شاید ایسا کوئی واقعہ ہوا ہو لیکن میرے سامنے اب تک ایسی کوئی بھی حرکت کسی جونیئر نے سینئر کے ساتھ نہیں کی۔ ہم اپنے سینئر کو بہت احترام دیتے ہیں۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

مدیحہ امام: ہدایتکارہ مہرین جبار کی ’’ایک جھوٹی سی لو اسٹوری‘‘ پر مبنی ویب سیریز کی تھی، فلم و ٹی وی کے بعد یہ تجربہ خوشگوار رہا، مستقبل قریب میں آنے والا دور ان کا ہی ہے۔ ویب سیریز سے ہم فنکاربین الاقوامی سطح پر اپنی شناحت بنارہے ہیں۔دنیابھرمیں ویب سیریزکے ساتھ ساتھ اب ویب فیچرموویز بھی بنائی جا رہی ہیں ۔ کووڈ19 نے اس رحجان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیاہے۔

مدیحہ امام: فرسودہ روایات کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بدلنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں کچھ کام ہوا ہے اور اس کے بہتر نتائج بھی ملے ہیں۔ مہرین جبار نے بھی لڑکیوں کی شادی سے متعلق سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔

مدیحہ امام: میراتعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے۔ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرے والدین نے مجھے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔ والدین نے مجھے صرف یہ نہیں کہہ دیا کہ یہ صحیح ہے اور وہ غلط بلکہ یہ بھی بتایا کہ کسی چیز کو صحیح اور غلط سمجھنے کی وجہ کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان لوگوں کی شرح بہت کم ہے جو اس طرح سوچتے ہیں۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان باتوں کے بارے میں غور کر کے انہیں سمجھ کر اور ان سے متاثر ہوئے بغیر انہیں حل کرنے اور تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔

مدیحہ امام: ایسا ہوتا ہے ،ہم معاشرے میں جس دبائو کو محسوس کر کے فیصلے لیتے ہیں وہ ہمارا ہی بنا ہوا جال ہے۔ اس جال میں پھنس کر ہم یہ طے کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا صحیح ہے کیا نہیں۔ یہ چیزیں چلتی چلی جا رہی ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم نے سماج میں ہی تو رہنا ہے، یہیں زندگی گزارنی ہے، تو اب بس ایسے ہی چلے گا۔ یہ سوچ غلط ہے کیوں کہ سماج کوئی اور نہیں ،ہم ہیں۔ کام مشکل ہے، لیکن کرنا پڑے گا۔

مدیحہ امام :اس میں کوئی شک نہیں فلموں اور ڈراموں میں ہم جو کہانیاں دیکھتے ہیں وہ سماج کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسی طرح پردے پر دکھائی جانے والی کہانیوں کا اثر ہماری اصل زندگی پر پڑتا ہے۔ لوگ ان کہانیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے میں ڈرامہ بنانے والوں پر بھی سماج میں صحیح اور غلط کے درمیاں توازن کو بنائے رکھنے کی زبردست ذمہ داری ہوتی ہے۔ اب وہ کس طور پر نبھاتے ہیں وہ تو عوام ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔

یہ ایک مشکل کام ہے لیکن ہماری انڈسٹری میں بہت سمجھدار اور باشعور لوگ ہیں ۔ڈرامے بنانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ان کے مواد کا معاشرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ جتنا زیادہ اچھا کام ہوگا اتنا زیادہ اچھا اثر پڑے گا اور آپ معاشرے میں فرق بھی دیکھیں گے۔

مدیحہ امام: ایک فنکارہ ہونے کے ناطے ہر قسم کے کردارکرناچاہتی ہوں مگرافسوس کہ اگر ایک اداکارہ کسی کردار میں ہٹ ہو جائے تواسکووہ اسی نوعیت کے کردار ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔اب تک میں نے با لی وڈ کی ایک فلم میں کام کیا ہے۔ایک پاکستانی فلم میں کام کروںگی۔ اگر فلم اسٹارکا مقام ملا تومتاثر کن اور جاندار کردار کی ادائیگی میری ترجیحات میں شامل ہوگی ۔

مدیحہ امام: ایسا تو نہیں، ہیرو اور ہیروئن کا فیصلہ ہدایتکار کرتاہے، فلم کہانی ہی کرداروں کے روپ میں فنکاروں کو یکجا کرنے کاسبب بنتی ہے اگر فلم یاٹی وی سے کوئی بھی اداکارہوگا ،آفراچھی ہوئی تو ہراداکارکے ساتھ کام کروں گی۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

غزل و نظم کے نامور شاعر قتیل شفائی کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 20 برس گزر گئے

Read Next

خیبرپختونخوا: قبائلی اضلاع میں جانوروں کی افزائش نسل کیلئے جامع منصوبہ بندی شروع

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے