• اگست 2, 2021

غزل و نظم کے نامور شاعر قتیل شفائی کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 20 برس گزر گئے

لاہور:  ہری پور کے بے مثل نغمہ نگاراور غزل و نظم کے بہترین شاعر قتیل شفائی کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 20 برس گزر گئے، الفاظ کے جادوگر نے جو بھی لکھا خوب لکھا۔

24 دسمبر 1919 کو ہری پور میں پیدا ہونے والے قتیل شفائی ایک شاندار اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، طبع آزمائی تو مختلف اصناف سخن میں کی لیکن اصل میدان غزل ٹھہرا۔

رقص کرنے کا ملا جو حکم دریاؤں میں
ہم نے خوش ہوکے بھنور باندھ لیے پاؤں میں

شاعری میں حقیقت پسندی کا رنگ بھرنا بھی اُن کا خاصا رہا،

نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں،
ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں۔

لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور انسانی جذبات کی ایسی خوبصورت ترجمانی کہ جس نے اُنہیں مقبول ترین شعرا کی صف میں لاکھڑا کیا۔ فلموں کے لیے گیت لکھے تو فلمی شاعری کی توقیر بڑھا دی،اِس میدان میں بھی وہ یکتا دکھائی دئیے۔

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ اور نقوش ایورڈحاصل کرنے والے قتیل شفائی 11جولائی 2001کو دارفانی سے کوچ کرگئے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

امریکا کا افغان حکومت کی کمزوریوں کا اعتراف، صورتحال پر تشویش کا اظہار

Read Next

فنکار صرف تعریف سن کر زندہ نہیں رہ سکتا، اداکارہ مدیحہ امام

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے