• مئی 26, 2022

عذیربلوچ کی فوجی عدالت سےسزاکےخلاف درخواست مسترد

سندھ ہائی کورٹ میں لیاری گینگسٹرعذیر بلوچ کی فوجی عدالت سے سزا کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے وکیل کی مسلسل عدم حاضری پر درخواست مسترد کردی۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ درخواست قابل سماعت ہونے متعلق عدالت کو مطمئن نہیں کیا گیا، درخواست گزار خود اور وکیل بھی پیش نہیں ہوئے جبکہ کسی دوسرے وکیل نے مہلت مانگی۔

عدالت میں عذیربلوچ کی والدہ نے درخواست کی تھی کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عزیر بلوچ کو ملٹری کورٹ نے 12 سال قید کی سزا سنائی ہے، عذیر بلوچ کو فوجی عدالت سے سینٹرل جیل کراچی منتقل کرنے کی خبر شائع ہوئی ہے، جیل حکام کوعذیربلوچ کو جیل منتقل کرنے کے باوجود ملٹری کورٹ کے فیصلے کی کاپی فراہم نہیں کی گئی جب کہ چیف جسٹس پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر کو ملٹری کورٹ کے فیصلے کی کاپی حاصل کرنے کے لیے خطوط بھی لکھے۔ عدالت سے عذیربلوچ کے خلاف جاری فیصلے کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ عذیربلوچ کو سزا دیتے وقت انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ملٹری کورٹ کے فیصلے کے بعد ملزم کوحکم نامے کی کاپی فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہےتاکہ اپیل دائرکرسکے۔

عدالت سےعذیربلوچ کو ملٹری کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ عذیربلوچ کو دی گئی سزا غیر قانونی ہے جب کہ عذیربلوچ سے اس کی والدہ کی ملاقات کا حکم دینے کی درخواست بھی کی گئی۔

واضح رہے کہ اب تک عذیر بلوچ 67 مقدمات میں سے 18 میں بری ہوچکا ہے۔

عذیربلوچ کا اقبالی بیان

لياری گينگ وار کے سرکردہ کردار عذیربلوچ نے اپنے اقبالی بيان ميں کہا تھا کہ سابق صدرآصف زرداری کے کہنے پر اپنے گروہ کے 15 سے 20 لڑکے بلاول ہاؤس بھیجےجنہوں نے بلاول ہاؤس کے اطراف 30 سے 40 بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے۔

عذیربلوچ کے اقبالی بیان میں بتایا گیا کہ پیپلزپارٹی رہنما اویس مظفر کو آصف زرداری کے ليے14 شوگر ملوں پر قبضے میں مدد کی۔ بلاول ہاؤس کے اطراف بنگلےاورفلیٹ زبردستی خالی کروانے کی آصف زرداری نے انتہائی کم قیمت ادا کی۔

عذير بلوچ کے بيان ميں سابق صدرآصف زرداری،اویس مظفر،شرجیل میمن، قادر پٹیل اور پيپلزپارٹی کے ديگر رہنماؤں پرسنگين الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

عذيربلوچ کے اقبالی بيان ميں يہ بھی ہے کہ وہ ایرانی خفیہ ایجنسی کے حاجی ناصر کے ساتھ ایران گیا اور ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسران سے ملاقات کی اور کراچی میں قائم حساس اداروں کے دفاتر اور تنصیبات کے نقشے دئیے اور تصاویر دینے کا وعدہ کیا۔ملاقات میں اہم تنصیبات کے داخلی وخارجی راستوں کی نشاندہی کرائی گئی اورسیکیورٹی پر مامور لوگوں کی تعداد، رہائش اور آمدورفت کا بھی بتایا گيا۔عدالت نے عزيربلوچ کے بیان کو رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس کاحصہ بنالیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نےعذيربلوچ کےاقبالی بیان کی نقول اے ٹی سی میں جمع کروائی ہیں جس میں اس نے بیان دیا کہ سال 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی اور سال 2008 ميں جیل میں پیپلزپارٹی رہنما فیصل رضا عابدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے قیدیوں کا ذمہ داربنایا گیا۔

عذيربلوچ نے بتایا کہ رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروہ بنایا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بلوچستان سے اسلحہ منگواتے تھے جس کواغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری ،سیاسی جلسوں اور ہڑتالوں کو کامیاب بنانے ميں استعمال کيا جاتا تھا۔

اس کےعلاوہ لیاری میں ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ سے کہہ کر اپنی مرضی کے پولیس افسران تعينات کرانے کا بھی اعتراف کيا ہے۔

عذير بلوچ نے يہ بھی بتايا کہ پولیس کی مدد سے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا۔ تینوں کے سر تن سے جدا کرکے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا۔اس واردات کی فوٹيج بنا کر وائرل کی تا کہ دہشت پھيلے۔

استغاثہ نے عذير بلوچ کی بریت چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ۔ استغاثہ نے موقف دیا کہ ان مقدمات میں گواہوں کے بیانات پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ عذیر بلوچ کو سزا دلوانےکیلئےشواہد موجود ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ مقدمات بحال کرنے اور گواہوں کو ازسرنو سننے کی استدعا کی جائے گی۔ان میں قتل ، اقدام قتل ، اغوا ، پولیس مقابلہ اور غیر قانونی اسلحہ کےمقدمات شامل ہیں۔

عذیر بلوچ کے خلاف بیشتر مقدمات میں 2012 سے 2013 تک ہونے والے جرائم شامل ہیں۔3 ماہ قبل عذیربلوچ کے مسلسل بری ہونے سے متعلق عدالت میں پراسیکیوٹر نے انکشافات کيا تھا کہ عذیر بلوچ کے کیسز سے متعلق گواہان و پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ سرکاری وکيل نے کہا کہ گواہان پراسیکیوشن اور عدالتی عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

عذیربلوچ کو رینجرز نے 30 جنوری 2016ء کو حراست میں لیا تھا۔ رینجرز نے اپریل 2017ء میں عذیر بلوچ کو جاسوسی اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزامات پر پاک فوج کے حوالے کر دیا تھا، کور 5 نے عذیر بلوچ کو 3 سال بعد 6 اپریل 2020ء کو پولیس کے سپرد کردیا تھا

Read Previous

گورنر سٹیٹ بینک کی 25 لاکھ ماہانہ تنخواہ، دیگر مراعات بھی شامل

Read Next

ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔