• مئی 23, 2022

عدم اعتماد کا شور

تحریر: نبی بیگ

گزشتہ چند ہفتوں سے ملک میں عدم اعتماد کا شور زوروں پر ہے جس سے سیاسی عدم استحکام میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف سے اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانب حکومت اپوزیشن کی طرف سے اس چیلنج کا سینہ تان کر مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف پُر عزم ہے بلکہ ماضی کی طرح اپوزیشن کی اس قسم کی ہرکوشش کو ناکام بنا کر فتح کا جھنڈا گاڑنے کیلئے بظاہر پُر اعتماد دکھائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن اگرچہ عدم اعتماد کا فیصلہ کرچکی ہے لیکن اس کا یہ فیصلہ کچے دھاگے کی مانند ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے کیونکہ اس کو خود بھی یہ نہیں معلوم کہ عدم اعتماد کی تحریک کب لائی جائے، کیسے لائی جائے، وزیراعظم کے خلاف پہلے لائی جائے یا اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف اور کیا اس قسم کی کوشش پہلے پنجاب اسمبلی میں کی جائے یا قومی اسمبلی میں طبل جنگ بجایا جائے۔

جس بھی اپوزیشن رہنما سے سوال کیا جاتا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک حکومت کے خلاف کب لارہے ہیں تو جواب گول مول ملتا ہے۔ کوئی ہفتوں کی، کوئی دنوں کی اور کوئی مہینوں کی بات کرتا ہے۔ کوئی اس قسم کا مبہم بیان بھی دیتا ہے کہ جب حکومت کی بیساکھیاں ختم ہوجائیں تو عدم اعتماد کی تحریک ایک دن میں لائی جائے گی۔ اپوزیشن رہنماؤں کے خیالات اس اعتبار سے بھی منقسم نظر آرہے ہیں کہ ایک رہنما دعویٰ کرتا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ جس ایک پیج پر تھے وہ پھٹ چکا ہے اور اب حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی تو دوسرا رہنما اس کے برعکس یہ کہتا ہے کہ اپوزیشن اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر کھڑی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدم اعتماد کی جنگ میں سارا دارومدار نمبر گیم پر ہے۔ اگر قومی اسمبلی کے اعداد وشمار کا سرسری جائزہ لیا جائے تو 342 ارکان کے ایوان میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پاس اتحادیوں سمیت کل 176 ارکان ہیں جبکہ اپوزیشن کے پاس مجموعی طور پر 162 ارکان ہیں۔ دو تہائی اکثریت کیلئے 172 ارکان کی حمایت لازمی درکار ہے۔ اس لحاظ سے اپوزیشن کو پی ٹی آئی یا اُس کے اتحادیوں میں سے 10 ارکان توڑنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی دو حلیف جماعتوں ایم کیو ایم کے پاس 7 جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق کے پاس 5 نشستیں ہیں۔ اسی لیے اپوزیشن دو ہفتوں سے مسلسل ان دونوں جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کیلئے کسی بھی طریقے سے ان کا اعتماد حاصل کرلیا جائے۔ ان دو جماعتوں کو حکومت کے اتحاد سے توڑ کر انکی حمایت حاصل کرنے میں اس کو کتنی کامیابی حاصل ہوگی یہ آنے والا وقت ہی بتا دے گا، تاہم اس معاملے میں بھی ’’گیون اینڈ ٹیک‘‘ کی گیم پر انحصار ہے۔ مسلم لیگ ن کے بعض رہنما واضح الفاظ میں اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ اگر پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا منصب چوہدری پرویز الہٰی کو دینا پڑے تو یہ سودا بھی مہنگا نہیں ہے کیونکہ وہ ہر صورت پی ٹی آئی حکومت سے عوام کو نجات دلانے کے خواہش مند ہیں۔

اپوزیشن کی سب سے بڑی ناکامی آپس میں عدم اعتماد اور عدم اتفاق ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اگرچہ حکومت کے خلاف خوب گرجتی برستی دکھائی دے رہی ہیں لیکن نہ صرف ان کے اندر تقسیم واضح ہے بلکہ انکے مفادات بھی الگ الگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی زیادہ عرصہ پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہ سکی جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا حکومت کے خلاف اتحاد غیر فطری ہے جس کا فائدہ پی ٹی آئی حکومت کو گزشتہ ساڑھے تین سال سے ہوا اور آئندہ بھی ہوگا

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

حدیقہ کیانی’دوبارہ’کی مقبولیت کے بعدکس بات کی خواہشمند؟

Read Next

حکومت کابجلی کےنرخوں کےتعین کااختیارنیپراسے واپس لینےکافیصلہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے