• مئی 24, 2022

طالبان کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کرنا ہو گا، جلد یا بدیر حکومت تسلیم کرنا ہو گی: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں بدترین انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ افغانستان کی سردی بہت ظالم اور بے رحم ہے۔

  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  امریکی عوام کو لازماً سمجھنا چاہیے کہ طالبان حکومت ناپسند کرنا ایک بات ہے لیکن یہاں چار کروڑ افغان عوام کی بقا کا اہم ترین سوال ہے جس میں نصف سے زیادہ آبادی انتہائی خطرناک صورتحال سے دو چار ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں استفسار کیا کہ کیا طالبان کے علاوہ دیگر کوئی متبادل اس وقت موجود ہے؟ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ کے حوالے سے افغان عوام کے لیے ہر کوئی فکر مند ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کیا یہ امکان موجود ہے کہ اگر طالبان کو نکال دیا جائے تو ان کی حکومت ختم ہوجائے گی؟ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ہمارے پاس کچھ موجود ہے تو وہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ کام کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان سے منہ موڑ لیا جاتا ہے تو پھر خدشہ ہے کہ افغانستان افراتفری کا شکار ہوسکتا ہے۔

انہوں ںے ایک سوال کے جواب میں استفسار کیا کہ کیا طالبان کی حکومت ختم کردی جائے تو وہ افغانستان میں نہیں رہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ کچھ لواور کچھ دو کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا طالبان پر دباؤ ڈال کر انہیں بدلا جاسکتا ہے؟ تو جواب نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا جو چاہتی ہے وہ صرف طالبان کو مراعات دے کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ افغانستان سے تین دہشت گرد گروپ پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان، دہشتگرد بلوچ گروپ اور داعش افغانستان سے پاکستان پر حملے کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جوا ب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کو انتشار میں نہیں جانا چاہیے، یہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ انہوں ںے واضح طور پر کہا کہ جلد یا بدیر طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اس ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کو مغرب سمجھتا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی آدھی آبادی بحران کے قریب ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے حقیقت میں دہشت گرد پیدا کیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کوڈرون حملوں کی پالیسی پرنظر ثانی کرنا ہو گی۔

 وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکی حملوں کی قیمت ہمیں ادا کرنا پڑی کیونکہ پاکستان امریکہ کا اتحادی

مقبوضہ کشمیرکا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہاں سب سے زیادہ مظالم ہو رہے ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ کشمیر میں ہزاروں افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے لیکن کمشیر پر عالمی میڈیا اتنا خاموش ہے جب کہ بھارت وہاں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سنکیانگ میں درحقیقت وہ صورتحال نہیں ہے جو مغربی میڈیا دکھا رہا ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

مولانا فضل الرحمان کو اپنی حیثیت کا پتہ چل گیا: علی امین گنڈا پور

Read Next

دل سنبھال کر رکھیں ورنہ 46 لاکھ جرمانہ ہو گا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے