• جون 24, 2021

شہبازشریف کانام بلیک لسٹ سے نکالنےکی درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیلئے درخواست پر ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

سرکاری وکیل نے شہباز شریف کی درخواست پر اعتراض اٹھایا کہ شہباز شریف نے درخواست میں ہیں لکھاکہ ایمرجنسی میں جانا ہے۔ کہتے ہیں کہ 20 مئی کو ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ ہے۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ قطر میں 10 دن قرنطینہ کریں؟ قرنطینہ کم سے کم 14 دن کے لیے ہوتا ہے۔ شہبازشریف اگر پہلے قطر جاتے ہیں اور پھر برطانیہ تو 20 مئی تک کیسے معائنہ کراسکتے ہیں؟

عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا آپ بتائیں کہ شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ میں ہے یا نہیں؟ ایک ایسا شخص جس کی ضمانت ہو چکی ہے اور ای سی ایل میں نام بھی نہیں ہے۔ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور پہلے دو مرتبہ جا کر واپس آچکے ہیں۔

جج نے استفسار کہا آپ کے کیا تحفظات ہیں کیا شہبازشریف واپس نہیں آئیں گے؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف بلیک لسٹ سے نام نکلنے پر کل ہی لندن روانہ ہو جائیں گے۔

مستند ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ شہباز شریف نے اپنے کینسر اور کمر کے ڈاکٹرز سے وقت لے رکھا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ  اگر عدالت نے اجازت دی تو پیر کو میری چیک اپ کے لیے اپوائنٹمنٹ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اپنا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی جانب سے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا تھا۔

شہباز شریف کی جانب سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ جس میں استدعا کی گئی گئی ہے کہ ان کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے۔

درخواست میں شہباز شریف کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مجھے آشیانہ اقبال ریفرنس، رمضان شوگر ملز ریفرنس میں عدالت سے ضمانت ملی، جس کے بعد بیرون ملک گیا اور پھر وطن واپس بھی آگیا۔

درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نام بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اور نام بلیک لسٹ میں شامل کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وفاقی حکومت کو درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ سےنکالنے کا حکم دیا جائے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

مسئلہ کشمیر: ہم سعودی قیادت کی طرف دیکھ رہےہیں

Read Next

بشریٰ انصاری کا بہن کی وفات کے بعد جذباتی پیغام

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے