• دسمبر 5, 2021

سورج کی روشنی اور ہوا سے تیل بنانے والا سسٹم

سائنسدانوں نے ایک نیا نظام بنایا ہے جو سورج کی روشنی اور ہوا سے ایندھن بنا سکتا ہے۔ یہ نظام لیبارٹری کے اور مخصوص حالات کے بجائے عام حالات میں کام کر سکتا ہے۔

اس کا استعمال ہوا بازی اور جہاز رانی جیسے شعبوں میں کیا جاسکتا ہے لیکن  پہلے اس کی بڑے پیمانے پر پیدوار کیلئے اقدامات کرنے  ہوں گے۔

یہ نظام ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس سے پرواز اور جہاز رانی سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ہوا اور سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والا یہ ایندھن مٹی کے تیل یا ڈیزل کی طرح کام کرے گا۔ لیکن اس کو مصنوعی طور پر پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور شمسی توانائی سے چل رہے ہیں۔

سائنسدانوں کو اس نظام کے انفرادی حصے بنانے میں کچھ کامیابی ملی ہے۔ لیکن ایسا سسٹم بنانا فی الحال بنانا بہت مشکل ہے جو حقیقی حالات میں قابل استعمال ہو۔

انجینئرز نے اس سسٹم کا ایک ورکنگ ورژن بنایا ہے جو تین ٹکڑوں پر مشتمل تھا۔ ایک ایئر کیپچر یونٹ جو ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی لیتا ہے۔

دوسرا سولر یونٹ جو شمسی توانائی کو حاصل کے اسے کاربن مونو آکسائیڈ اور آکسیجن کے مرکب میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔تیسرا حصہ اس گیس کو مائع بناتا ہے تاکہ اسے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

اگر اس نظام کو کافی بڑا بنایا جائے تو یہ ممکنہ طور پرمٹی کے تیل کی مانگ کو پورا کر سکتا ہے جو فی الحال ایوی ایشن اور شپنگ کے شعبے استعمال ہو رہا ہے۔

لیکن اس کے لیے بڑے پیداواری پلانٹس کی ضرورت ہوگی جو صحرائے صحارا کا تقریباً 0.5 فیصد ہو۔ اس ایندھن کی قیمت ابتدائی طور پر موجودہ مٹی کے تیل سے زیادہ ہوگی۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

ناسا نے زمینی دفاع کے لیے نیا خلائی جہاز تیار کر لیا

Read Next

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے