• اکتوبر 26, 2020

سارے ادارے زمینوں کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اداروں کے نام پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ  جسٹس اطہر من اللہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) پر برہم ہوگئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سارے ادارے زمینوں کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں، ایف آئی اے کو تو خود ایسے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے اور وہی اس میں لگ گئے۔ چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا نمائندہ کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے کو کہاں اختیار ہے کہ وہ کاروبار کریں گے؟ سی ڈی اے ریگولیٹر رہ گیا ہے یا نہیں؟ شہر کا ماحول تباہ کردیا گیا، حاضر سروس لوگ پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہیں، کرائم ریٹ میں اضافہ بھی اسی وجہ سے ہے یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ اس موقع پر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ سوسائٹیز کے ملازمین نے ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ملازمین نہیں ادارے خود یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا کر چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے ملازمین کے نام پر لی جانے والی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو بیچ دی۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور سی ڈی اے حکام کو طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

توشہ خانہ ریفرنس: آصف زرداری کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی استدعا

Read Next

ملکی تاریخ میں پہلی بار فی تولہ سونا 6100 روپے سستا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے