• جولائی 28, 2021

ریڈیو ٹائیسو: قومی ورزش جس کے بغیر جاپانیوں کی زندگیاں نامکمل

جاپان کے پارکوں، سکولوں اور دفاتر میں لاکھوں افراد باقاعدگی سے روزانہ ایک ہی ورزش کرتے نظر آتے ہیں جو ’ریڈیو ٹائیسو‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جاپان کی مشہور ترین ورزش ’’ٹائیسو‘ دن میں کئی مرتبہ ریڈیو پر نشر کی جاتی ہے۔
عموماً پیانو کے میوزک کے ساتھ کی جانے والی یہ تین منٹ کی ورزش تقریباً ایک سو سال سے جاپان کے لوگوں کی زندگیوں کا اہم حصہ ہے بلکہ جنگ کے بعد امریکہ نے اس خیال سے ٹائیسو پر پابندی عائد کر دی تھی کہ جاپانیوں کی سرگرمیاں عسکریت پسندانہ ہیں۔
اس ورزش میں بنیادی طور پر جسم کے مختلف حصوں کو سٹریچ کیا جاتا ہے۔ ٹائیسو ریڈیو کا آغاز سنہ 1920 میں ہوا تھا جب جاپان کی ایک سرکاری انشورنس کمپنی نے امریکی ریڈیو پر چلنے والے ایک فٹنس پروگرام سے متاثر ہو کر اسے جاپانیوں کی روز مرہ کی زندگی میں متعارف کروانے کی کوشش کی تھی۔
ٹائیسو کا پہلا پروگرام جاپان کے قومی ریڈیو پر سنہ 1928 میں نشر ہوا تھا۔ ٹائیسو کے معنی دراصل ورزش کے ہیں۔ٹائیسو ریڈیو اس قدر مشہور ہوا کہ یہ جاپانی قوم کے کردار کا حصہ بن گیا۔ حکومت کے اندازے کے مطابق تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ جاپانی ہفتے میں کم سے کم دو مرتبہ ریڈیو ٹائیسو کرتے ہیں جو عموماً گروپ کی شکل میں کی جاتی ہے۔ اس میں ہر عمر اور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوتے ہیں۔
جاپان میں روزانہ عموماً گروپ کی شکل میں ٹائیسو کیا جاتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)جاپان ایئر لائنز کے عملے کی ایک رکن ہیموری ریکو کورونا وائرس سے پہلے ٹیم کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سال میں ایک مرتبہ یہ ورزش کرتی تھیں لیکن دسمبر سے وہ ویڈیو کانفرنسنگ ایپ ’زوم‘ کے ذریعے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ باقاعدگی سے ٹائیسو کرتی ہیں۔ہیموری ریکو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کورونا وائرس کے باعث گھر سے کام کرنے کی وجہ سے کچھ لوگ تنہائی محسوس کرتے ہیں، لیکن ریڈیو ٹائیسو کرنے سے کم سے کم  دن میں ایک مرتبہ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ لیتے ہیں۔‘ٹائیسو صرف نوجوانوں کی ہی نہیں بلکہ بچوں اور عمر رسیدہ افراد کی زندگی کا بھی حصہ ہے۔عموماً عمر رسیدہ افراد صبح صبح پارکوں یا مزاروں میں اکٹھے ہوتے ہیں جب ساڑھے چھ بجے ٹائیسو کا پہلا سیشن نشر کیا جاتا ہے۔مٹسوٹوشی دارالحکومت ٹوکیو کے ایک پارک میں روزانہ صبح تقریباً 250 افراد کے گروپ کو ٹائیسو کرواتی ہیں۔تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ جاپانی ہفتے میں ایک مرتبہ ٹائیسو کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)ان کا کہنا ہے کہ ’کورونا وائرس کے دوران ہماری روزانہ کی زندگی زیادہ مشکل ہو گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے جسم کو زیادہ سے زیادہ حرکت میں رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔‘گروپ کے ایک رکن ہیساکو کا کہنا ہے کہ ’صبح صبح سٹریچ کرنے سے ان کے جسم کے تمام جوڑ ٹھیک رہتے ہیں۔‘

Read Previous

آئی فون 12 کی سیریز کامیاب بن گئی، تحقیقاتی رپورٹ

Read Next

ہونڈا کے نئے ماڈل کی رونمائی کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے