• مارچ 5, 2021

رابرٹ میلے کا ایران کے لیے بطور ایلچی تقرر ’دیرپا معاہدے کے لیے اہم‘

امریکی صدر جو بائیڈن نے 2015 میں تہران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے میں واشنگٹن کی نمائندگی کرنے والے رابرٹ میلے کو ایران کے لیے اپنا ایلچی مقرر کیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق انہیں ایرانی حکومت سے مضبوط رعایت حاصل کرنے کی کوشش کا ٹاسک سونپا گیا ہے جس کے بدلے میں امریکہ جوہری معاہدے میں واپس آنے اور پابندیوں میں نرمی کرے گا۔عرب امریکی سربراہان نے میلے کے تقرر کا خیر مقدم کیا ہے جنہوں نے سابق صدر براک اوبامہ اور بل کلنٹن کے دور میں اسرائیل فلسطین امن معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ انتونی بلینکن کا کہنا ہے کہ ’بائیڈن ایران کے ساتھ معاملات حل کرنے کے لیے ایک مضبوط ٹیم تشکیل دے رہے ہیں اور میلے ’دیرپا اور مضبوط‘ جوہری معاہدے کے لیے ایک اہم شخصیت ثابت ہوں گے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے براک اوباما انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے اس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ٹرمپ کے اس فیصلے کو اپوزیشن نیشنل کونسل آف ریزسٹینس آف ایران کے رہنماؤں نے سراہا تھا جنہوں نے تہران کی جانب سے معاہدے کے برعکس جوہری صلاحیتوں کو وسیع کرنے کے ثبوت فراہم کیے تھے۔امریکہ نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے پر آمادہ ہو گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)بلنکن کے ترجمان نیڈ پرائس نے عرب نیوز کو بتایا کہ انتظامیہ ایک ’لگن سے کام کرنے والی‘ ٹیم بنا رہی ہے۔ ’میلے نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔ سیکرٹری مکمل طور پر پُرامید ہیں کہ وہ اور ان کی ٹیم ایک بار پھر یہ کر دکھانے میں کامیاب ہوگی۔‘پرائس نے مزید بتایا کہ’اگر ایران 2015 کے معاہدے جوائنٹ کمپریہنسو پلان آف ایکشن پر پوری طرح کاربند رہنے کے لیے تیار ہوجائے تو امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’بائیڈن اسے ایک دیرپا اور مضبوط معاہدے کی تشکیل کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرے گا جس کے ذریعے ایران کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ دیگر تحفظات پر بات کی جائے گی۔‘تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم اس سے بہت دور ہیں کیونکہ بہت سے اقدامات ابھی ایسے ہیں جن پر کام جاری ہے۔‘بلنکن کے ترجمان نیڈ پرائس نے عرب نیوز کو بتایا کہ انتظامیہ ایک ’لگن سے کام کرنے والی‘ ٹیم بنا رہی ہے امریکی عرب سربراہان جو میلے کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہین، کے مطابق جب میلے نے فلسطین اسرائیل امن معاہدے پر کام کیا تو انہوں نے میلے کو ’مخلص اور متوازن‘ پایا۔واشنگٹن میں عرب امریکن انسٹیٹیوٹ کے صدر جم زوگبی جنہوں نے کلنٹن اور اوباما انتظامیہ کے دور میں میلے کے ساتھ کام کر رکھا ہے، نے بتایا کہ وہ (میلے) جس ایشو پر بھی بات کریں گے ’پیشہ ورانہ مہارت اور وضاحت‘ کے ساتھ کریں گے۔’کوئی بھی راب میلے سے زیادہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں معلومات نہیں رکھتا نہ ہی ان سے زیادہ معقول یا مخلص ہو سکتا ہے‘

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

میٹرک کے امتحانات یکم جولائی، انٹرمیڈیٹ کے 28 جولائی سے ہوں گے، سعید غنی

Read Next

امریکی فوج میں خواجہ سراؤں پر عائد پابندی ختم

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے