• مئی 26, 2022

خیبرپختونخوا:13 اضلاع میں ضمنی انتخاب کل ہونگے

خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع کے پولنگ اسٹیشنز پر بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے ضمنی انتخابات کل ہو رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں گزشتہ سال 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ ہوئی تھی تاہم مختلف وجوہات کے باعث انتحابی عمل روک دیا گیا تھا یا شکایات کی وجہ سے وہاں نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اب وہاں دوبارہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے ان انتخابات میں جے یو آئی ف نے کامیابی حاصل کی تھی

تیرہ فروری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ سخت اور دلچسپ مقابلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سٹی میئر کی نشست پر ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں تحصیل میئر کی نشست پر پہلے مرحلے میں پولنگ نہیں ہوسکی تھی جس وجہ سے وہاں نئے سرے سے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تحصیل میئر کا انتخاب اس وقت ملتوی ہو گیا تھا جب عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عمر خطاب شیرانی کو الیکشن سے ایک روز پہلے قتل کر دیا گیا تھا

ڈیرہ اسماعیل خان کے الیکشن کے لیے پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام (ف) ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں اور ان جماعتوں کے مرکزی قائدین اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار بھی متحرک ہیں۔

تحصیل میئر کے انتخاب کے لیے امیدواروں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے بھائی عمر امین گنڈہ پور اور جمیعت علما اسلام کے مقامی رہنما ایک کاروباری شخصیت کفیل نظامی شامل ہیں

پشاور، نوشہرہ، خیبر، مہمند، مردان، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان، چارسدہ، بونیر اور باجوڑ میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ بنوں میں بکا خیل کے پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ صبح ساڑھے 9 سے شام ساڑھے 5 بجے تک ہوگی۔ باقی تمام اضلاع میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ اس علاقوں میں پولنگ کیلئے 331 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے 13 فروری کو ہونے والے انتخابات کو پرامن رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کی ہدایات جاری کی ہیں

خیبر پختونخوا کے سترہ اضلاع میں انیس دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کو بیشتر علاقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پشاور سمیت کئی اہم اضلاع میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے میدان مار لیا تھا جس پر وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

عام تاثر یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہی کے ذریعے ہی حکومت کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے، 19 دسمبر کے الیکشن میں صوبے کے عوام کی اکثریت نے ایک طرح سے حکمراں جماعت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

البتہ حکمراں جماعت کا دعویٰ ہے کہ 31 مارچ کو خیبرپختونخوا میں دوسرے مرحلے کے انتخابات میں پارٹی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی

Read Previous

روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے، امریکہ

Read Next

یاماہا موٹر سائیکل کی قیمتوں میں 12ہزار روپے تک اضافہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔