• مئی 24, 2022

حوثیوں حملوں سے نمٹنے کیلے امریکی ایف22طیاروں کی ابوظبی آمد

امریکا کے جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل جدید لڑاکا طیارے ایف 22 ریپٹر یو اے ای پہنچ گئے ہیں۔

یمن میں موجود حوثی جنگجوؤں کے ابوظہبی میں غیر معمولی حملوں کے بعد ہفتہ کو امریکی لڑاکا طیارے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے فضائی اڈے الدفراح ایئر بیس پہنچے، جہاں تقریباً دو ہزار امریکی فوجی پہلے ہی موجود ہیں۔

سال 2003 کے عراق پر امریکی حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی فوجیوں نے خطے میں اس دفاعی نظام کا استعمال کیا ہے۔ امریکی حکام نے آپریشنل سیکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے ایف 22 طیاروں اور پائلٹس یا ایئرمین کی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ ہفتوں میں، ایران سے منسلک حوثیوں نے متحدہ عرب امارات کے اہداف پر بڑے پیمانے پر ناکام حملے کیے ہیں جس کے بعد اماراتی اور امریکی فضائی دفاع کو الرٹ جاری کیا گیا۔

امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جیٹ طیارے یو اے ای کے اڈے پر امریکی حمایت کے کثیر جہتی مظاہرے کے ایک حصے کے طور پر پہنچے ہیں۔ یہ تعیناتی پورے خطے میں پہلے سے موجود اتحادیوں اور شراکت داروں کی مشترکا جنگی فضائی طاقت کی صلاحیتوں کو بڑھا دے گی۔

یو اے ای میں حوثی باغیوں کے حملے کے بعد امریکی وزیر دفاع نے ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النہیان کے ساتھ بات چیت کے بعد ففتھ جنریشن کے طیاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی فضائیہ کے اہلکاروں اور ایف 22 ریپٹر طیاروں کا تعلق یو اے ایس ایف کے فرسٹ فائٹر ونگ سے ہے جو امریکا کے جوائنٹ بیس لیگلی ورجینیا میں ہے۔

قبل ازیں مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے امریکی جنرل نے بتایا تھا کہ امریکا متحدہ عرب امارات پر داغے جانے والے میزائلوں کو گرانے کے لیے اپنے انٹراسیپٹرز کا استعمال کرے گا

 

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

دہشتگردوں کوکچلنے کیلئےسہولت کاروں کانیٹ ورک توڑناناگزیرہے،آرمی چیف

Read Next

ملکی معیشت درست سمت پر گامزن، چین نے اعتماد کا اظہار کیا،: وزیراعظم

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے