• دسمبر 6, 2021

حماقت در حماقت کر کے حکومت خوش گمانی میں مبتلاہے:شہباز شریف

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ حماقت در حماقت کر کے حکومت خوش گمانی میں مبتلاہے،عمران نیازی حکومت بدستور عوام کے اور نجی شعبے کے اوپر اپنی نااہلی اور نالائقی کا وزن ڈال رہی ہے جبکہ شرح سود میں ڈیڑھ فیصد مزید اضافہ اندھی حکومت کا ایک اور تباہ کن اقدام ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے قومی اسبملی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پر سالانہ مزید 400 ارب سود کی اضافی ادائیگی لاد دی گئی ہے ،اس اقدام سے نجی شعبے کو بھی 100 ارب روپے سود کی مد میں زیادہ ادا کرنے پڑیں گے جبکہ حماقت در حماقت کر کے حکومت خوش گمانی میں مبتلا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی بے قدری کو شاید روک لیا جائے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کے پچھلے ہفتے کے انڈیکس میں 15 فیصد اضافہ تھا، بڑا اضافہ 60 فیصد کا بجلی کے نرخوں میں تھا،پرائس انڈیکس میں 70 فیصد کا اضافہ ایل پی جی کی قیمت میں تھا جبکہ ان دونوں اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کا سود شرح سود سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان قیمتوں کا اضافہ صرف حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے ہوا ہے،عمران نیازی حکومت بدستور عوام کے اور نجی شعبے کے اوپر اپنی نااہلی اور نالائقی کا وزن ڈال رہی ہے، یہ حکومت عام آدمی کی زندگی اجیرن کرنے کا دوسرا نام ہے،عوام کے کچن کا بجٹ دوگنا سے زیادہ ہوگیا اور تاریخ کی مہنگی ترین ہونے کے باوجود گیس بھی عوام کو فراہم نہیں ہو رہی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ شرح سود بڑھا کے نجی صنعت پر ایک اور حملہ کیا گیا ہے،حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکے، اس کا صحیح طریقہ شرح سود بڑھانا نہیں بلکہ برآمدات میں اضافہ ہے،حکومت کو درآمدات میں کمی کرنا ہو گی اور حکومتی خرچے کم کرنا ہوں گے جبکہ اس فیصلے سے برآمد کرنے والی صنعتوں کو گیس نہیں ملے گی اور مہنگے داموں گیس ملے گی تو پھر برآمدات کیسے بڑھیں گی؟۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

فیبری کیٹڈ آڈیو مجھ سےمنسوب کی گئی ہے: سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار

Read Next

بڑی مچھلیوں کیخلاف منی لانڈرنگ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں:چیئرمین نیب

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے