• اکتوبر 30, 2020

جنگ مسلط کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے ,پاک فوج چوکنا اور باخبر ,ہائبرڈواز بھی جیتیں گے:آرمی چیف

راولپنڈی،اسلام آباد : پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں دیا، اس لئے دُشمن کو کوئی شک نہ ہو، ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پہ کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے ، افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں اور انشاء اللہ دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لئے تیار ہیں، پوری دنیا اوربالخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں، افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے ، وہ اتوار کو یوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 6 ستمبر 1965 کا دِن ہماری تاریخ کا ایک لازوال باب ہے ، یہ وہ دن ہے جب قوم کی یکجہتی، وطن سے محبت، قربانی اور بہادری کی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں، پاکستانی قوم کے لئے چھ ستمبر صرف ایک دن نہیں بلکہ ہمارے حوصلے کی پہچان بھی ہے ، یہ دِن1948، 1965، 1971، کارگل کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والوں کی یاد میں منایا جاتا ہے ، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دْشمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دْشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں، آج بھی ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں، اسی لئے آج ہم اپنے شہداء اور غازیو ں کے عظیم کارناموں کو یاد کرنے اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے یہاں موجود ہیں، اْن کی جرات، بہادری اور قربانیوں کی بدولت ہماری آزادی، خود مختاری، امن و سلامتی قائم ہے ، انہوں نے کہا کہ میرے سامنے شہدا ء کے اہلِ خانہ موجود ہیں، میں اْنھیں سلام پیش کر تا ہوں، میں اْنھیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اْن کے پیاروں کی قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے ، ہمارے شہید ہمارے ہیرو ہیں اور جو قومیں اپنے ہیرو کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں مِٹ جایا کرتی ہیں، میں آپ کے جذبہ ایثار کو سلام پیش کر تا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ پوری قوم آپ کے صبر اور قربانی کی مقروض ہے جس طرح شہدا پوری قوم کا فخر ہیں، اسی طرح آپ بھی ہمارا فخر ہیں، میں آج کی تقریب میں اعزازات حاصل کر نے والے آفیسرز، جونیئر کمیشنڈ آفیسرز اور جوانوں کو مبارکباد پیش کر تا ہوں، آپ نے فرض کی ادائیگی کے دوران پاکستان فوج کی اعلیٰ روایت کو مقدم رکھتے ہوئے جس پیشہ ورانہ معیار کا ثبوت دیا ہے ، ہم سب کو آپ پر ناز ہے ، آپ کے سینوں پر سجائے جانے والے میڈل نہ صرف آپ بلکہ ہم سب کے لئے باعثِ افتخار ہیں، انہوں نے کہا کہ مملکت ِ پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریئے کی علمبردار ہے ، اسی بنیاد پر ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے ، ہمارے دشمن اس شناخت کو مٹانے کے لئے لگاتا ر سازشوں کا جا ل بْنتے آئے ہیں لیکن الحمدللہ افواجِ پاکستان اور قوم نے جذبہء ایمانی سے سر شار ہو کر ان کی ہر چال کو ناکام بنایا، وطن کی آزادی اور سلامتی ہمارا نصب العین ہے ، اس مشعل کو ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے جلائے رکھا اور ہم بھی اسے روشن رکھنے کے لئے پْر عزم ہیں، پاک فوج کے بہادر سپاہیوں کو مخاطب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج جیسی دلیر اور بہادر سپاہ کی کمان کرنا میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے ،ہمارا ہر آفیسر اور جوان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلیٰ نظم و ضبط اور ایثار کی بدولت ایک ایسی فوج کی نمائندگی کرتا ہے ، جس کی صلاحیتوں کو دنیا نے تسلیم کیا ہے ، سرحدوں کے محاذ ہوں یا دہشت گردی، قدرتی آفات کا سامنا ہو یا تعمیرِوطن کے فرائض، پاک افواج اپنی قوم کی حفاظت اورخدمت کو ایک انتہائی مقدس فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہیں، پاکستانی قوم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ، کوئی دشمن ہماری اس محبت کو شکست نہیں دے سکتا، اسی طرح پاکستانی قوم کی پاکستان افواج سے محبت لازوال ہے ، ان کا اعتماد غیرمتزلزل ہے ، میں ان تمام جذبوں کو سلام کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ اس موقع کا فائدہ اْٹھاتے ہوئے میں آپ کی توجہ ایک اور چیلنج کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں اور یہ چیلنج ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر مسلط کیا گیا ہے ،اس کا مقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بد نام کر کے انتشار پھیلانا ہے ، ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں، قوم کے تعاون سے اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم ان شا اللہ ضرور کامیاب رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں، مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے اور سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں، دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے ،حال ہی میں کورونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفت کا بھی سامنا رہاجس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا، آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی، بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اور اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے ، بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا، افواج ِپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہ بن کردنیا کے مختلف علاقوں میں قیام ِامن کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں جس کی دنیا معترف ہے ،انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے ، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے ،بانی ِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا،میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لئے اہم اور ایمان کا حصہ ہے ، اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ وقت ہمیں کئی بار آزما چکا،ہم ہر بار سرخرو ہوئے ہیں، پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے ۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دے گا، علاوہ ازیں آرمی چیف نے یادگار شہدا پر بھی حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی،علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے ، ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں ملکی صورتحال، قومی سلامتی کے امور، دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں جس میں افواج پاکستان کے متعدد جوانوں اور افسروں نے شہادت حاصل کی ، ان پر تبادلہ خیال کیا گیا ، صدر مملکت نے پاک افواج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے فوج نے مثالی کردار ادا کیا ہے ۔علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے ، ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں ملکی صورتحال، قومی سلامتی کے امور، دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں جس میں افواج پاکستان کے متعدد جوانوں اور افسروں نے شہادت حاصل کی ، ان پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ صدر مملکت نے پاک افواج کی قربانیوں کو سراہاتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی، اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے فوج نے مثالی کردار ادا کیا ہے ۔ اسلام آباد ،مظفر آباد (وقائع نگار ،بیورورپورٹ ،نیوز ایجنسیاں، دنیا مانیٹرنگ)ملک بھر میں یوم دفاع و شہدا ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا ، قوم نے وطن عزیز کے شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا،6 ستمبر 1965 کو بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا تاہم قوم نے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر دشمن کے اس گھناؤنے عزائم کو ناکام بنا دیا جس کی یاد میں گزشتہ روز غازیوں اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ تمام خطرات کے خلاف ملک کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا گیا، یوم دفاع کا آغاز مساجد میں نماز فجر کے بعد ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعاؤں کے ساتھ کیا گیا جبکہ شہدا کے لئے فاتحہ اور قرآن خوانی بھی کی گئی،اس کے علاوہ دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں پاک فضائیہ کے کیڈٹس نے مزار قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھالے ،مزار قائد پر فرائض سنبھالنے والے گارڈز کا دستہ 3 خواتین سمیت 46 کیڈٹس پر مشتمل ہے ،اس موقع پر مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل شکیل غضنفر کو جنرل سلیو ٹ پیش کیا گیا جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی نے گارڈ آف آرنر کا معائنہ کیا، مزار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی، ایک تقریب نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بھی منعقد کی گئی،تقریب میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے شرکت کی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ پڑھی، وہ شہدا کے اہلخانہ سے بھی ملے ،لاہور میں مزار اقبال پر بھی گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی، پنجاب رینجرز کے چاق چو بند دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھالے اور سلامی پیش کی،دریں اثنا کھاریاں کے بہادر سپوت نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کے مزار لادیاں پر بھی مختصر تقریب منعقد کی گئی، مظفر آباد میں وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرپاک فوج کے لیفٹیننٹ ناصر خالد شہید کی قبر پر پہنچے اور فاتحہ خوانی کی جبکہ پولیس کے چاق چوبند دستے نے سلامی پیش کی،مظفرآباد سمیت آزادکشمیر کے دیگر ضلعی مراکز اور چھوٹے بڑے شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں،علاوہ ازیں یوم دفاع کے حوالے سے صدر ڈاکٹرعارف علوی نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے حصول تک اُن کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے ،پاک فوج نے ملک ناقابل تسخیر بنا دیا ہے ، وزیراعظم عمران خان نے ٹو یٹ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے خلاف قومی اتحاد اور عزم کبھی نہیں بھلاسکتا۔ کوئی دشمن اتنی متحد قوم کو شکست نہیں دے سکتا،انہوں نے کہاکہ ہم اپنے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں، 1965 کی جنگ مجھے آج تک یاد ہے جب میری عمر 13 سال تھی، دشمن کے خلاف قومی اتحاد اور عزم کبھی نہیں بھلا سکتا، جناح کا پاکستان بنانے کیلئے آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے ،وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ ، انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری ، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان ،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ،سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور دیگر نے بھی پاک فوج کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور قوم کے جذبہ کی تحسین کی۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

بنگلادیش کے دارالحکومت کی مسجد میں دھماکا، 16 نمازی شہید

Read Next

ملکی برآمدات اور ایف بی آر کے محاصل میں کورونا صورتحال کے بعداضافہ ہوا: حفیظ شیخ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے