• جنوری 21, 2022

جنوبی پنجاب میں کھاد کا مصنوعی بحران جاری، کاشتکار مہنگے ریٹ خریدنے پر مجبور

ملتان: حکومت کے نوٹس لینے کے باوجود جنوبی پنجاب میں کھاد کا مصنوعی بحران تاحال جاری ہے جس سے کھادوں کی قیمتیں کم نہ ہونے سے مہنگی کھاد خریدنا کاشتکاروں کی مجبوری بن گیا ہے۔

حکومت نے کھاد کے مصنوعی بحران پر نوٹس لیا لیکن اس کے باوجود جنوبی پنجاب میں تاحال مختلف کھادیں ہی نایاب ہیں جن کی تلاش میں کاشتکاروں کی اکثریت خوار ہو رہی ہے جس سے ڈی اے پی کھاد کی بوری کی قیمت پچانوے سو روپے، یوریا کی پچیس سو روپے اور نائٹرو کی اکسٹھ سو روپے تک بٹوری جا رہی ہے۔ جس پر کاشتکار تنظیموں نے حکومت سے گندم کی امدادی قیمت بائیس سو روپے من مقرر کر کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکرٹری زراعت کا موقف ہے کہ گندم کی کاشت شروع ہونے پر ذخیرہ اندوز فعال ہوئے تاہم کاشت کا عمل مکمل ہونے سے کھاد کی مصنوعی قلت کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا لیکن اس کے باوجود کارروائیاں کر رہے ہیں۔

کھاد کی فی بوری قیمت میں ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک کا خودساختہ اضافہ ہو چکا ہے جس سے گندم سمیت مختلف فصلوں کی کاشت متاثر ہونے کے خدشے پر کاشتکار تنظیموں نے احتجاجی مظاہروں کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

ایف بی آر نے کراچی، لاہور سمیت شہروں میں غیر منقولہ جائیداد کی قیمتیں بڑھا دیں

Read Next

ہتک عزت کیس،میشا شفیع نے عدالت میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرانے کی ہامی بھر لی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے