• ستمبر 18, 2021

جامعہ کراچی میں دو روزہ طبی سائنسی نمائش اختتام پذیر ہوگئی

 کراچی: بین الاقوامی مرکز میں بین الاقوامی نمائش مسلم دنیا میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے اعادے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی جس میں پاکستانی جامعات اور سائنسی اداروں نے اپنی اختراعات اور ایجادات پیش کیں جو طبی شعبہ جات میں استعمال ہوسکتی ہیں۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا مشن دنیا میں اوآئی سی رکن ممالک اور پاکستان کی مصنوعات کو فروغ دینا ہے، نئے خیالات اور جدت طرازی کو پیش کرنے کے لئے نمائش بہترین وسیلہ ہوتی ہے

آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں ”صحت کی نگہداشت میں ٹیکنالوجی کی فعالیت“ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ کامسٹیک آئی سی سی بی ایس بین الاقوامی نمائش (8تا9 ستمبر) جمعرات کو حکومت، سائنسدانوں، مخٰیّرافراد اور صنعتی رہنماؤں کی جانب سے مسلم دنیا میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے اعادے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس بین الاقوامی نمائش میں 21 سے زیادہ نمائش کنندہ نے شرکت کی جس کے توسط سے ملک میں جدت طرازی اور صنعقی ترقی کی ثقافت کو فروغ دینے کے حوالے سے مقامی سطح پر تیارٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔  بین الاقوامی نمائش کا انعقاد آئی سی سی بی ایس ٹیکنالوجی پارک اینڈ ٹیکنالوجی ایکیوبیشن سینٹر جامعہ کراچی اور او آئی سی کامسٹیک کے باہمی تعاون سے ہوا

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ بائیو میڈیکل اینجینیئرنگ اور صحت کے نگہداشتی شعبہ جات میں ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو فروغ دینا اس بین الاقوامی نمائش کا ہدف تھا، اس نمائش میں پاکستان اور او آئی سی رکن ممالک سے مستقبل کی ٹیکالوجی، ممکنہ حل اور حکمتِ عملی کو پیش کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انوویٹرز، ٹیکنالوجی ڈیولپرز اور سروس پرووائڈرز کے لئے یہ کامسٹیک آئی سی سی بی ایس بین الاقوامی نمائش ایک منفرد پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے جہاں متعلقہ افراد نے سائنس اور جدت طرازی کے عنوان سے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا آئی سی سی بی ایس ٹیکنالوجی پارک اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹر جامعہ کراچی تعلیمی اداروں میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ آخر میں پروفیسر اقبال چوہدری نے نمائش کے شرکاء کو اسناد پیش کی۔

نمائش میں آئی سی سی بی ایس سے وابستہ ذیلی اداروں نے صنعتی ٹیکنالوجی، فرانزک شعبے اور شعبہ جینیات نے اپنی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اس طرح آئی سی سی بی ایس کے ذیلی ادارے کئی اہم شعبہ جات میں اختراعات پیش کررہے ہیں۔

نمائش میں ایک دلچسپ اختراع سادہ ای سی جی مشین کی صورت میں پیش کی گئی جو تین الیکٹروڈز (دو سینے کے اوپری حصے اور ایک پیر) لگاکر دل میں خرابی کا پتہ لگاسکتا ہے۔ اس سے وابستہ سرکٹ بھی پاکستان میں تیارکیا گیا ہے جس کی  قیمت چند ہزار روپے ہے۔

یہ اختراع نیشنل الیکٹرانکس کمپلیکس نے پیش کی ہے جو اسلام آباد میں واقع ایک قومی نوعیت کا ادارہ ہے۔ اسی ادارے کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایپ ’کووریڈ‘ سے سینے کے ایکس رے سے صرف ایک منٹ میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ مشین لرننگ پلیٹ فارم پر دولاکھ سے زائد ایکس رے نمونوں کو شامل کرکے اس کی تربیت کرائی گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ڈرگ ریگولیشن اتھارٹی اس کی تصدیق بھی کرچکی ہے۔

جامعہ کراچی کے عمیر باشا انسٹی ٹیوٹ کے طالبعلم اسامہ نے کووڈ ایپ پیش کی جسے ڈاؤن لوڈ کرکے کسی بھی جگہ پر کورونا سے متاثر افراد کی معلومات اور وبا کی کیفیت سے آگہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح عمیرباشا کے ایک اور طالبعلم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو کسی بھی مقام مثلاً ہال اور اسٹور وغیرہ میں لوگوں کے درمیان دوری رکھنے کے عمل پر نظر رکھتا ہے۔

آئی سی بی بی ایس کے ٹیکنالوجی انکیوبیٹر مرکز کے نوجوان ماہرین نے پرواز نامی ایک منصوبے سے آگاہ کیا جس میں انہوں نے ڈرون کی بدولت جان بچانے والی ادویہ کی ترسیل پر اپنی اختراعات پیش کیں۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

ٹوئٹر پر ناپسندیدہ فالوورز کو بلاک کیے بغیر چھٹکارا پائیے!

Read Next

سچ بولو: پروگرام 6 ستمبر یوم دفاع

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے