• ستمبر 19, 2021

تکنیکی علوم تدریسی نصاب کا حصہ بنانے کا فیصلہ

کراچی ( ) وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی سربراہی میں سندھ کریکیولم کونسل کا 11 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن و کالج ایجوکیشن اور دیگر ممبران شریک ہوئے۔ کریکیولم ونگ کی چیف ایڈوائزر ڈاکٹر فوزیہ خان نے اجلاس کو بتایا کہ پہلی کلاس تا آٹھویں کی نصابی کتب کا جائزہ لیا جا چکا ہے اور نویں تا بارہویں کی نئی نصابی کتب پر کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ کوشش کی جائے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی، جنسی تفریق، سخت رویے، معاشرے میں تشدد یا عدم برداشت اور انتہاپسندی کو فروغ دینے والے کسی بھی رویے کو نصابی کتب کا حصہ نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پڑھنے لکھنے کا ذوق رکھنے والے اساتذہ اور سول سوسائٹی کے افراد کو مختلف ٹیکسٹ کتب کے لیے مضامین لکھنے کی اوپن آفر دی جائے اور ان میں سے سب سے بہتر مضامین کو ٹیکسٹ کا حصہ بنانے پر غور کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ تصاویری عکس، اینی میشنز اور آرٹ السٹریشنز کو بھی نصابی کتب میں شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ آف کریکیولم اینڈ ریسرچ، کریکیولم ونگ اور سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو ملا کر ادارہ بنانے کی متفقہ منظوری دے دی گئی ۔ سیکریٹری کالج ایجوکیشن سید خالد حیدر شاہ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے ۔ اسی ضمن میں اساتذہ کی تربیت کے لیے قائم ادارے سندھ ٹیچر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اسٹیڈا)، پراونشل انسٹی ٹیوٹ ٹیچر ایجوکیشن (پائیٹ) اور ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (ٹی ٹی آئی) کو ایک ہی ادارے میں ضم کرنے اور ازسر نو تشکیل کی منظوری دی گئی ، جس کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تکنیکی علوم کو تدریسی نصاب کا حصہ بنایا جائے اور کلاس آٹھویں تا دسویں کے طلبا کو کوئی Technical skills سکھائی جائیں، اس کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے جو کہ ڈویژنل سطح پر مارکیٹ میں مطلوبہ تکنیکی مہارت کے حساب سے اسٹڈی کرے گی اور اپنی تفصیلی حکمت عملی آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی ۔ اجلاس میں اسکول بیگ کے حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئیں اور بچوں کی روزانہ کلاس کی کتب، ہوم ورک کی کاپیاں اور اسکول بیگ کے وزن پر تفیصلی بات چیت کی گئی ۔ اسکولوں میں بچوں کی کتب رکھنے کے لئے دراز یا لاکرز بھی قائم کرنے کی تجاویز آئیں۔ اجلاس نے ایتھکس کے مضمون کا نام تبدیل کرکے مذہبی علوم رکھنے کی منظوری دیدی۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

سینتیس کروڑ کے 7 ترقیاتی منصوبے منظور

Read Next

وزیراعظم نیپرا کی مجرمانہ خاموشی کا نوٹس لیں،کنورنوید

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے