• اکتوبر 26, 2021

بلوچستان میں تعلیم کا شعبہ مسائلستان بن چکا، اساتذہ کی کمی اور جدید سہولیات کا فقدان

کوئٹہ: بلوچستان میں تعلیم کا شعبہ مسائلستان بن چکا، سرکاری اسکولوں پر بجٹ میں ہر سال خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے، اساتذہ کی کمی اور جدید سہولیات کے فقدان سے تعلیمی نظام تباہ ہو کر رہ گیا۔

اقوام کی ترقی کا دارو مدار تعلیم کے شعبے کو ترقی دے کر طلباء کے لئے بنیادی سہولیات کو ممکن بنانا ہے مگر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر سرکاری سکولوں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔ صوبے میں سینکڑوں ایسے سرکاری سکول بھی ہیں، جہاں واش روم نہیں اور بیٹھنے کوڈیسک نہیں، یہی نہیں بلکہ مستقبل کے معمار کورنا وائرس سے بچاؤ کے لئے ہاتھ دھونے کے لئے لگی ٹینکیوں سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔

صوبائی بجٹ 2021-22 میں تعلیم کے شعبے کے لئے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں مجموعی طور پر 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے نئے اساتذہ بھرتی کرلیے ہیں۔

ماہرین تعلیم کا موقف ہے کہ ہر دوسرا سرکاری سکول مائلستان کا منظر پیش کر رہا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں شرح خواندگی میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

خیبرپختونخوا میں سزاؤں کا تعین اور ان میں کمی سے متعلق قانون سازی کرلی گئی

Read Next

آسٹریلیا میں 5.9 شدت کا زلزلہ، لوگ گھبرا کر سڑکوں پر نکل آئے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے